تفسیر کبیر (جلد ۱۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 534

تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 103

دیتے ہیں۔حالانکہ اسلام نے سود کے مقابلہ میں بیع سلم کو جائز قرار دیا ہے۔آج کل سود کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ تو بنکوں کا سود ہے اس کے لینے میں کیا حرج ہے حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔نام خواہ کچھ رکھ لیا جائے وہ بہرحال سود ہے اور اس کا لینا ناجائز اور حرام ہے۔اسی طرح اسلام نے تجارت کے اور کئی اصول مقرر کئے ہیں جن کی پابندی تجارتی ترقی کے لئے نہایت ضروری چیز ہے۔یہ مسلمانوں کی غفلت کا نتیجہ ہے کہ بنک جاری ہو گئے جن کو اب ایک دم بند نہیں کیا جا سکتا۔اگر آج بنک بند ہو جائیں تو ملک کا دیوالہ نکل جائے۔اگر مسلمان شروع سے ہی بیع سلم کو جاری رکھتے تو ان پر بنکوں کی حکومت نہ ہوتی۔لیکن عقل کے ساتھ اب بھی کئی ایسے طریق معلوم کئے جا سکتے ہیں جن سے تجارت جاری رہے پہلے بھی لوگ تجارت کرتے تھے اور مسلمانوں میں بڑے بڑے تاجر پائے جاتے تھے اور وہ سود کے بغیر ہی تجارت کرتے تھے۔بنکوں کا اس وقت رواج نہ تھا۔پھر زمینداریاں ہیں۔ان کے متعلق بھی اسلام نے بڑے بھاری قوانین مقرر کئے ہیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی چیز پکنے سے پہلے نہ بیچی جائے(بخاری کتاب البیوع باب بیع الثمار قبل ان یبد و صلاحھا) کیونکہ اس طرح دھوکا ہو جاتا ہے۔ہوائیں چلتی ہیں اور پھل گر جاتا ہے یا غلہ کم ہو جاتا ہے خصوصاً باغوں کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ پھل پکنے سے پہلے نہ بیچا جائے سوائے اس کے کہ نیچے والی زمین بھی خریدار کو ہی دے دی جائے تاکہ وہ زراعت کر کے کسر پوری کر لے۔بہر حال پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا منع ہے۔پھر زراعت کے متعلق فرمایا وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ(الانعام:۱۴۲) اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق ادا کرو۔اگر پہلے غرباء کا حق ادا کرو گے تب وہ فصل تمہارے لئے جائز ہو گی ورنہ نہیں۔پھر دوسرے کے کھیت سے پانی لے جانے کا مسئلہ ہے۔اسلام نے کہا ہے کہ اگر کوئی تمہاری زمین میں سے پانی لے جانا چاہے تو اسے مت روکو(بخاری کتاب المساقاۃ باب سکر الانـھار) اگر زمین میں سے دوسرے کو پانی لے جانے سے روکا جائے تو اس صورت میں آبادی تباہ ہو جاتی ہے۔پھر شادی بیاہ ہے۔اسلام نے اس کے متعلق بھی کئی اصول مقرر کئے ہیں۔مثلاً عورت کا مہر مقرر کرنا اور پھر عورت کو شادی سے پہلے دیکھنا۔تاکہ بعد میں جو فتنے پیدا ہو سکتے ہیں وہ نہ ہوں۔شادی کے موقعہ پر جب سب باتیں رشتہ داروں میں طے ہو جائیں تو لڑکی کو دیکھ لینا بہت سے فتنوں کا سدّ باب کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نوجوان نے کسی لڑکی سے شادی کرنی چاہی لڑکی والوں کے سب حالات اسے پسند تھے۔اس نے لڑکی کے باپ سے کہا کہ مجھے اور تو سب باتوں سے اتفاق ہے اگر آپ اجازت دیں تو میں لڑکی کو بھی دیکھ لوں۔اس وقت پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا۔لڑکی کے باپ نے کہا میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔وہ