تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 6
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو اور اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا ہو تو قرآن کریم کو دیکھ لو۔جو باتیں اس میں پائی جاتی ہیں وہ سب آپ کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔اور جوفعل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے وہ قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اور جو آپ نہیںکرتے تھے وہ قرآن کریم میں نہیں پایا جاتا۔گویا ایک سے دوسرے کو روشنی ملتی ہے۔قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جِلا دیتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم قرآن کریم کو جِلا دیتے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ سورۂ کوثر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ نبوت کے ابتدا میں نازل ہو تی ہے لیکن اس میں آخری زمانہ کی خبر اس تفصیل سے دی گئی ہے کہ انسان محو حیرت ہو جاتا ہے اس سورۃ میں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی کیا شان ہو گی اور قرآن کریم کی تکمیل کے وقت اس کی کیا شان ہو گی۔جب یہ سورۃ آپ کی نبوت کے دوسرے یا تیسرے سال نازل ہوئی تو آپ کی حیثیت کیا تھی۔آپ کو کوئی جانتا بھی نہ تھا۔آٹھ دس آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۔پندرہ بیس چھوٹی چھوٹی سورتیں آپ پر نازل ہوئی تھیں۔آپ کے کیریکٹر اور نبوت کے مطابق اخلاق فاضلہ کے مظاہرے کے کوئی مواقع نظر نہیں آتے تھے دوسرے انبیاء علیہم السلام کی وہ پیشگوئیاں جن کے متعلق آپ کہتے تھے کہ وہ آپ کے متعلق ہیں یا وہ پیشگوئیاں جو آپ خود اپنے متعلق کیا کرتے تھے وہ ابھی پوری نہیں ہوئی تھیں۔آپ کا وجود ایسا تھا جیسے کسی بڑے درخت کی گٹھلی سے صرف ایک کونپل نکلتی ہے۔وقت سے پہلےکون کہہ سکتا ہے کہ وہ چھوٹی سی کونپل ایک دن ایک عظیم الشان درخت بنے گی۔لوگ اس کے پھل کھائیں گے اس کے سایہ میں بیٹھیں گے اس وقت اسے ایک بکری بھی اپنے پاؤں سے دباسکتی ہے۔ایک کیڑا بھی اسے کاٹ کر گرا سکتا ہے۔قرآن کریم کی ابھی چند ہی سورتیں نازل ہوئی تھیں اور چند گنتی کے آدمی ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔اس وقت جب آپ کی کو ئی حیثیت نہیں تھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ اے مکہ والو تم یہ خیال نہ کرو کہ قرآن کریم کیا ہےچنداخلاقی باتیں ہیں۔ایسا نہیں۔یہ تو ایک مکمل کتا ب بننے والی ہے۔یہ خیال مت کرو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حیثیت نہیں۔وہ تو ایک عظیم الشان مقام پر پہنچنے والے ہیںجسے کوثر کہا جاتا ہے۔کوثر کےلفظ میں آپ کی زندگی، آپ کو عطا شدہ علوم، اخلاق فاضلہ اور فتوحات سب شامل ہیں۔اس وقت جبکہ آپ کو اور آپ کے پاس بیٹھنے والوں کو لوگ مارتے تھے، پیٹتے تھے۔آپ کے اخلاق کی برتری کو کوئی کیا ثابت کر سکتا تھا۔اس وقت اگر کوئی کہتا کہ آپ رحیم و کریم ہیں تو دشمن کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنے کمزور ہیں کہ لوگ انہیں مارتے ہیں، پیٹتے ہیں اور مختلف قسم کی ایذائیں دیتے ہیں۔جب دشمن زبردست ہے تو پھر معافی