تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 88

معنے آخرت کے لحاظ سے کئے ہیں۔چونکہ انہوں نے تمام سورۃ کو آخرت پر چسپاں کیا ہے اس لئے اس کے معنے بھی انہوں نے نیک و بد، جنتی و دوزخی اور سفید و سیاہ کے کئے ہیں۔( روح المعانی سورۃ الزلزال زیر آیت يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ) مگر سفید و سیاہ سے انگریز اور ہندوستانی مراد نہیں بلکہ ان کا اشارہ يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ( اٰل عمران:۱۰۷) کی طرف ہے کہ آخرت میںکچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے چہرے سفید ہوں گے اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے یعنی کچھ سرخ رو ہوں گے کچھ زیر الزام آئیں گے ( دیکھ لو یہیں مجاز آگیا) اسی طرح وہ اَشْتَاتًا کے معنے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے کے کرتے ہیں۔يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ میں آخری زمانہ کے متعلق ایک پیشگوئی میں چونکہ اسے آخری زمانہ کے متعلق سمجھتا ہوں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ مقدر تھی اس لئے میں اس کے یہ معنے کرتا ہوں کہ اس وقت جتھہ بندی زوروں پر ہو گی۔اور پارٹی بازی بہت ہو گی۔يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا یہ ایک خاص علامت ہے جو پہلے کسی زمانہ میں رونما نہیں ہوئی صرف موجودہ زمانہ ہی ایسا ہے جس میں یہ علامت نمایا ں طور پر نظر آتی ہے۔پہلے زمانوں میں صرف منفرد کوششیں کی جاتی تھیں۔اجتماع اور اتحاد کا رنگ ان میں مفقود تھا۔اس زمانہ میںایک اچھے تاجر کے صرف اتنے معنے تھے کہ زید نے کچھ روپیہ لیا اور اس نے اپنے شہر میںتجارت شروع کر دی۔یا اچھے صناع کے معنے صرف اتنے تھے کہ فلاں ترکھان اچھی چیزیں بناتا ہے یا فلاں لوہار لوہے کا کام خوب جانتا ہے یا مزدور کے معنے صرف اتنے تھے کہ ایک غریب شخص کسی امیر کے ہاں ملازم ہو گیا یا اس کا کوئی اور کام معین معاوضہ پر کرنے لگا اس زمانہ میںبھی بے شک مزدور بعض دفعہ آقا سے لڑ رہا ہوتا تھا اور اگر آقا کو غصہ آتا تو وہ مزدور پر اپنا غصہ نکال لیتا۔مگر بہر حال ہر تاجر، ہر صناع، ہر مزدور اور ہر سرمایہ دار انفرادی جدوجہد کرتا تھا۔اسے اپنے ہم پیشہ دوسرے لوگوں کے حقوق اور ان کے مطالبات سے کوئی تعلق نہیںہو تا تھا زید چاہتا تھا کہ میرا معاملہ سدھر جائے اور بکر چاہتا تھا کہ میرا معاملہ سدھر جائے مگر قرآن کریم اس جگہ یہ خبر دیتا ہے کہ آخری زمانہ میںیہ اختلافات جتھہ بندی کی شکل اختیار کر لیں گے اور پارٹی سسٹم بہت ترقی کر جائے گی۔اور لوگ یہ پارٹی بازی اس لئے کریں گے لِيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ کہ اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھیںیعنی انہیںیقین ہو گا کہ جتھہ بندی سے کام کرنے کے نتائج اچھے نکلتے ہیں۔اگر جتھہ بندی نہیں ہو گی تو ہمارے کام کا کوئی نتیجہ نہیںنکلے گا پہلے زمانہ میںمزدور اگر آقا کے رویہ سے بہت تنگ آجاتا تو وہ کہہ دیا کرتاتھا کہ میری مزدوری مجھے دے دیں میںچلا جاتا ہوں۔مگر اس زمانہ میں جب مزدوروں نے دیکھا