تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 87
رہنے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں وہی کلام الٰہی کے لئے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔آخر یہ صاف بات ہے کہ جب مجاز استعمال کیا جائے گا تو لازماً اس کا کوئی نہ کوئی قرینہ ہو گا۔قرینہ کے بغیر ہی اگر مجاز استعمال ہونے لگے تو پھر بے شک دنیا میں اندھیر پڑجائے۔مثلاً اگر میں کہوں کہ کل فلاںوفات یافتہ شخص میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یوں کہا تو چونکہ وہ صاحب فوت شدہ ہوں گے اس لئے میری یہ بات حقیقت پر مشتمل نہیں سمجھی جائے گی۔لیکن اگر میں کہوں کہ کل فلاں صاحب (جو زندہ ہوں) میرے پاس آئے۔اور یہ بات سن کر بعض لوگ جھگڑا شروع کر دیں ایک کہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خواب میں آئے تھے اور دوسرا کہے کہ نہیںظاہر میںآئے تھے تو یہ بےوقوفی ہو گی۔کیونکہ پہلے قول میںیہ قرینہ موجود تھا کہ جن صاحب کا ذکر تھا وہ فوت ہو چکے ہیں اور وہ بہر حال خواب میںہی آسکتے ہیں ظاہرمیں نہیں۔لیکن دوسرے قول میں یہ قرینہ نہیں۔پس مجاز اور استعارہ جب بھی کلام میں استعمال کیا جائے گا۔اس کے لئے قرائن کا ہونا ضروری ہو گا تا کہ ہر شخص سمجھ سکے کہ جو بات بیان کی جارہی ہے وہ کلام حقیقت ہے یا کلام مجاز۔لیکن بہر حال دنیا میںہمیشہ مجاز اور استعارات استعمال کئے جاتے ہیں اور بجائے اس کے کہ لوگوں پر ان استعمالات کی وجہ سے کسی کلام کا سمجھنا مشتبہ ہو جائے وہ ایسے کلام سے نہایت لطف اٹھاتے اور استعارات کو فصاحت کی جان قرار دیتے ہیں۔پس جس طرح مجاز اور استعارہ انسانی کلام میںچار چاند لگا دیا کرتا ہے اسی طرح الٰہی کلام میں بھی مجاز اور استعارات کا استعمال اس کے حسن کو دوبالا کر دیتے اور اس کی شان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔پس یہ بالکل غلط خیال ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میںمجازا ور استعارہ نہیں ہوتا یا مجاز اور استعارہ کے استعمال سے حقیقت چھپ جاتی ہے۔مجاز اور استعارہ پہچاننے کے دنیا میںکچھ قواعد مقرر ہیں۔جو بند وں کے کلام پر بھی چسپاں ہو سکتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے کلام پر بھی۔اگر ان قواعد کے مطابق مجاز و استعارہ کا استعمال بتایا جائے گا تو ماننا پڑے گا کہ وہ معنے درست ہیں اگر ان کے خلاف معنے کئے جائیں گے تو ان معنوں کو غلط قرار دیا جائے گا شبہ پید اہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا١ۙ۬ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ۰۰۷ اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں جمع ہوں گے تاکہ (اپنی) اپنی کوششوں (کے نتائج) کو دیکھیں۔حلّ لُغات۔اَشْتَاتًا۔اَشْتَاتًا کے معنے ہیں متفرقین یعنی گروہ در گروہ۔تفسیر۔يَوْمَىِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ کی تشریح پہلے علماء کے نزدیک مفسرین نے اس کے