تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 79
ہے مگر اس کے بعد بھی کچھ دیر تک زبان پر یہ تصرف جاری رہتا ہے اور وہ جلدی جلدی اس فقرہ کو دہراتی رہتی ہے تاکہ انسان کو اچھی طرح یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پرکیا الہام نازل کیا ہے۔ایسے الہام میں بھی کبھی بطور گواہی دوسروں کو شریک کردیا جاتا ہے۔وحی کی دسویں قسم (۱۰) کلام بلا واسطہ جو آنکھوں پر نازل ہوتا ہے منفرد و مشترک۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام آنکھوں پر نازل ہوتا ہے یعنی لکھے ہوئے الفاظ پیش کئے جاتے ہیں جن کو پڑھ کر انسان اللہ تعالیٰ کے منشا سے آگاہ ہوجاتا ہے۔یہ کلام بھی دونوں رنگ میں ہوتا ہے یعنی منفرد طور پر بھی اور مشترک طور پر بھی۔کبھی تو صرف اسے کوئی لکھی ہوئی چیز نظر آجاتی ہے اور کبھی دوسرے لوگ بھی اس نظارہ میں شریک کردیئے جاتے ہیں۔یہ امر بتایا جاچکا ہے کہ لغت کے لحاظ سے وحی کے ایک معنے تحریر کے بھی ہیں۔یہ معنے اس دسویں قسم میں آجاتے ہیں کیونکہ اس میں الفاظ تحریرکی صورت میں دکھائے جاتے ہیں اور درحقیقت وحی کی قطعیت الفاظ کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہے۔کان، آنکھ، زبان یا دل کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی۔جو وحی الفاظ کی صورت میں نازل ہو وہ بہرحال اور تمام وحیوں سے زیادہ شاندار سمجھی جائے گی اور اس کی قطعیت میں کوئی شبہ نہیں ہوگا خواہ یہ قطعیت کان سے حاصل ہو خواہ دل سے حاصل ہو خواہ زبان سے حاصل ہو خواہ آنکھ سے حاصل ہو۔جس وحی کے متعلق انسان قسم کھاکر کہہ سکتا ہو کہ اس کا لفظ لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اس کی زبر اس کی زیر اس کا لام اور اس کامیم سب خدا نے نازل کیا ہے وہ وحی کی تما م قسموں میں سے زیادہ اعلیٰ سمجھی جائے گی۔گیارھویںقسم (۱۱) کلام بلا واسطہ جو کانوں پر گرتا ہے اور زبان بھی شریک کردی جاتی ہے۔یعنی وہ کلام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتا ہے صرف کانوں پر نازل نہیں ہوتا بلکہ زبان بھی اس کو دہراتی چلی جاتی ہے اور جب ربودیت کی حالت جاتی رہتی ہے تو کان محسوس کررہے ہوتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کا کلام سنا اورساتھ ہی زبان بھی گواہی دے رہی ہوتی ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا۔بارھویں قسم (۱۲) کلام بلا واسطہ جو آنکھوں پر گرتا ہے اور زبان بھی اس میں شریک کردی جاتی ہے۔یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک تختی دکھائی جاتی ہے جس پر الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی زبان بھی ان الفاظ کو دہراتی چلی جاتی ہے۔تیرھویں قسم (۱۳) کلام بلا واسطہ جو قلب پر گرتاہے اور زبان بھی اس میں شریک کردی جاتی ہے۔چودھویں قسم (۱۴) کلام بلا واسطہ جس میں دونوں حواس ظاہری اور تیسرا باطنی بھی شریک کردیئے جاتے