تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 74

بات بیان فرمائی اور انہوں نے کہا کہ اگر آپ بیت المقدس سے ہو آئے ہیں تو ہمیں اس کا نقشہ بتائیں جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں بتایا کہ بیت المقدس ایسا ہے ایسا ہے۔تو اس سے لوگوں کے ایمانوں میں جو تازگی پیدا ہوئی ہوگی وہ محض لفظی کلام سے کہاں پیدا ہوسکتی تھی یا مثلاً احادیث میں آتا ہے واپسی کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک قافلہ مکہ کی طرف آرہا ہے اور اس قافلہ والوں کا ایک اونٹ گم ہوگیا ہے جس کی وہ تلاش کررہے ہیں۔آپ نے یہ بات بھی کفار کے سامنے بیان کردی۔چنانچہ چند دن بعد معلوم ہوا کہ بعینہٖ یہ واقعہ مکہ کے ایک قافلہ سے پیش آیا تھا اور جب وہ قافلہ مکہ میں پہنچا تو اس نے تسلیم کیا کہ بات درست ہے(در منثور زیر آیت سبحان الذی اسـرٰی)۔اب یہ ایک زائد فائدہ تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کا نظارہ دکھانے سے حاصل ہوا کہ لوگوں کے ایمان بڑھ گئے اور کفار جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے تھے کہ آپؐنعوذ باللہ افتراء سے کام لیتے ہیں ان کا منہ بند ہوگیا۔غرض اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنے اہم کلام کے اظہار کے لئے تصویری زبان کو بھی استعمال کرلیتا ہے یعنی تمثیلی زبان میں بھی ایک واقعہ بیان کردیتا ہے اور پھر لفظی وحی میں بھی اس کا ذکر کردیتا ہے لیکن بہرحال دائمی کلام لفظی ہی ہوتا ہے تصویری کلام نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک الہام بھی اسی قسم کا ہے جس میں دونوں صورتیں اختیار کی گئی ہیں تصویری زبان بھی اور لفظی الہام بھی۔آپ کا الہام ہے جَاءَنِیْ اٰیِلٌ وَاخْتَارَ وَاَدَارَ اِصْبَعَہٗ وَاَشَارَ اِنَّ وَعْدَاللہِ اَتٰی فَطُوْبٰی لِمَنْ وَّجَدَ وَرَاٰی(تذکرہ صفحہ ۵۵۹ ) میرے پاس جبریل آیا اور اس نے مجھے چن لیا۔اس نے اپنی انگلی کو گرد ش دی اور اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا ہے پس مبارک وہ جو اس کو پائے اور دیکھے۔اب دیکھو یہ ایک نظارہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دکھایا گیا کہ جبریل آپ کے پاس آیا اس نے اپنی انگلی کو گردش دی اور اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ پھر اس واقعہ کو کلام کی صورت میں بھی لے آیا تاکہ اور لوگ بھی اس سے متاثر ہوں۔یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب کوئی شخص یہ کہے کہ میں نے ایک بڑا اونچا پہاڑ دیکھا ہے تو جو اثر اس کا دیکھنے والے پر ہوتا ہے وہ سننے والے پر نہیں ہوتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ بعض دفعہ کسی واقعہ کو نظارہ کی صورت میں لاکر اس کے اثر کو زیادہ گہرا کرنا چاہتا ہے مگر پھر الہام میں بھی اسے بیان کردیتا ہے تاکہ دوسروں پر بھی اثر ہو۔مثلاً جبریل نے اپنی انگلی سے جو اشارہ کیا ہوگا اس کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر جو اثر ہوا ہوگا وہ اثر خالی لفظوں سے نہیں ہوسکتاتھا۔لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں پر صرف خواب کا ذکر کرنے سے کوئی اثر نہیں ہوسکتا تھا ان کے لئے ضروری تھا کہ لفظی الہام