تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 75

نازل کیا جاتا۔یہی حکمت ہے جس کے ماتحت اللہ تعالیٰ اپنے اہم کلام کو بعض دفعہ دونوں صورتوں میں بیان کردیتا ہے تصویری زبان میں بھی اور لفظی الہام میں بھی۔اس بحث کے بعد اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے جو تین اقسام وحی کی بیان کی ہیں ان کی آگے تجربہ کی بناء پر اور بھی کئی قسمیں ہیں جو یہ ہیں: وحی کی تئیس اقسام پہلی قسم (۱) خواب تعبیر طلب منفرد و مشترک۔مثلاً ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ فلاں شخص کے مکان کی دیوار گرگئی ہے۔اب ضروری نہیں کہ اس کے مکان کی دیوار ہی گرے بلکہ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ جو اس کی حفاظت کا ذریعہ ہے یا اس کو مشکلات و حوادث سے بچانے والے ہیں وہ اس کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یا ان پر وبال آجائے گا۔یہ خواب کبھی منفرد ہوتی ہے یعنی صرف ایک شخص ہی دیکھتا ہے اور کبھی مشترک ہوتی ہے یعنی ایسی ہی خواب دوسر ے کو بھی آجاتی ہے۔دراصل غیر نبی کا کلام چونکہ قطعی اور یقینی نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ طریق رکھا ہوا ہے کہ بعض دفعہ بعینہٖ ویسا ہی رؤیا دوسرے کو بھی دکھا دیا جاتا ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں اس کا کئی دفعہ تجربہ کیا ہے کہ بعض دفعہ جس قسم کی خواب آتی ہے بعینہٖ اسی قسم کی خواب دوسرے کو آجاتی ہے۔میں نے ایک دفعہ اپنی مجلس میں ایک رؤیا کا ذکر کیا جو ۲۴؍مئی ۱۹۴۴ء کے الفضل میں شائع ہوچکا ہے اس کے بعد ایک دوست نے بتایا کہ مجھے ایک غیراحمدی دوست نے اپنا ایک رؤیا سنایا تھا اور بتایا تھا کہ اسے خواب میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ رؤیا خلیفۃ المسیح کو بھی دکھایا گیا ہے۔چنانچہ میں ’’الفضل‘‘ میں آپ کا رؤیا پڑھ کر حیران رہ گیا کہ ایسا ہی رؤیا اس غیراحمدی دوست نے دیکھا تھا (الفضل مورخہ ۲۷؍مئی ۱۹۴۴ء) پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نظارے تو مختلف دکھائے جاتے ہیں مگر ان کی تعبیر ایک ہی ہوتی ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے روس کے متعلق میں نے ایک رؤیا دیکھا جو الفضل یکم ستمبر ۱۹۴۵ء میں شائع ہوچکا ہے۔میں نے جس تاریخ کو یہ خواب دیکھا ہے اس کے دوسرے دن ہی میاں روشن دین صاحب زرگر کا مجھے ایک خط ملا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں نے روس کے متعلق یہ رؤیا دیکھا ہے اور اس کی تعبیر بھی وہی تھی جومیرے رؤیا کی تھی۔اب دیکھو مجھے ان کی خواب کا علم نہیں انہیں میری خواب کا علم نہیں۔میں الفضل والوں کو خواب لکھتا ہوں اور میاں روشن دین مجھے لکھتے ہیں اور دونوں کی تعبیر ایک ہی ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنے بندے کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ تمہاری خواب بالکل سچی ہے ویسی ہی خواب دوسرے کو بھی دکھادیتا ہے۔بعض دفعہ تو دونوں کا ایک جیسا نظارہ ہوتا ہے اور بعض دفعہ نظارہ تو جدا جدا ہوتا ہے مگر تعبیر ایک ہوتی ہے۔غرض پہلی قسم یہ ہے کہ انسان ایسا رؤیا دیکھتا ہے جو تعبیر طلب ہوتا ہے یہ خواب منفرد بھی ہوتی ہے اور مشترک بھی۔یعنی کبھی صرف خود ایک نظارہ دیکھتا ہے اور کبھی ویسا ہی نظارہ دوسروں کو بھی دکھادیا جاتا ہے۔