تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 70
سنائی دے جس کے معین الفاظ ہوں۔خواہ الفاظ اس کی زبان پر یا دل پر جاری کردیئے جائیں (دل میں آئیں نہیں بلکہ جاری کئے جائیں۔دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے) اور وہ ایک ایک لفظ کے متعلق قسم کھا کر کہہ سکتا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔اسی طرح خواہ یہ کلام بلاواسطہ نازل ہو یا بالواسطہ کسی مَلک رسول کے ذریعہ سے نازل ہو جب بھی کوئی الٰہی کلام لفظوں میں موجود ہو اور انسان دوسروں کو اس کلام کے معین الفاظ سنا کر کہہ سکتاہو کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوئے ہیں تو وہ وحی زیادہ اعلیٰ اور زیادہ شاندار سمجھی جاتی ہے اور جو تعبیری زبان میں وحی نازل ہو یا تصویری زبان میں نازل ہو چونکہ اس کے بیان کرنے میں انسان کو اپنے الفاظ اختیار کرنے پڑتے ہیں اور اس میں غلطی کا زیادہ احتمال ہوتا ہے اس لئے اسے پہلی قسم کی دونوں وحیوں سے ادنیٰ سمجھا جاتا ہے۔دراصل جس طرح لغت والے کہتے ہیں کہ وضع لغت کے لحاظ سے فلاں لفظ کے یہ معنی ہیں اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ وضع وحی کے لحاظ سے وحی کے مقدم معنے اس وحی کے ہیں جو الفاظ میں نازل ہو۔پھر استعارہ اور مجاز کے طور پر دوسری قسموں کے لئے بھی اس لفظ کا استعمال کرلیتے ہیں۔مگر بہرحال یہ دونوں قسم کی وحی پہلی وحی سے ادنیٰ سمجھی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسے وحی کے نام سے موسوم ہی نہیں کرتے۔چنانچہ امت محمدیہ میں جو صوفیاء گذرے ہیں ان کا یہ طریق رہا ہے کہ وہ صرف وحی لفظی کو وحی کہتے تھے باقی قسموں کو وحی قرا رنہیں دیتے تھے بلکہ خواب یا کشف کہہ دیتے تھے۔چنانچہ وحی، کشف اور رؤیا کا لفظ بار بار ان کی کتابوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ محاورہ اتنی کثرت سے استعمال ہونے لگا ہے کہ موجودہ زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے حقیقت کھل جانے کے باوجود ہم بھی اکثر اسی محاورہ کو استعمال کرتے ہیں۔بلکہ خود میں نے بارہا اپنی تقریروں اور تحریروں میں وحی، کشف اور رؤیا کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔چونکہ وحی کا لفظ کثرت سے لفظی کلام کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے صوفیاء نے اس لفظ کو صرف لفظی وحی کے لئے مخصوص کرلیا ہے۔باقی قسمیں جو درحقیقت وحی کی ہی مختلف شقیں ہوتی ہیں ان کو وہ وحی قرار نہیں دیتے بلکہ کشف یا رؤیا کہہ دیتے ہیں۔پھر بعض لوگ تو اور بھی اونچے چلے گئے ہیں وہ صرف نبی کی وحی کو وحی کہتے ہیں۔غیر نبی کی وحی کو وحی نہیں بلکہ الہام قرار دیتے ہیں۔ان کے نزدیک اس امتیاز کی بنیاد اس امر پر ہے کہ ان میں سے ایک چیز شبہ سے بالا ہے اور دوسری چیز اپنے اندر شبہ کا احتمال رکھتی ہے۔نبی کی وحی چونکہ شبہ سے بالا ہوتی ہے اس لئے وہ اسے وحی کہتے ہیں لیکن غیر نبی کی وحی چونکہ احتمالِ شبہ رکھتی ہے اس لئے وہ اسے وحی نہیں الہام کہتے ہیں۔الہام کے معنے گو عام طور پر در دل انداختن کے کئے جاتے ہیں۔مگر میں نے خود صوفیاء کی کتابوں میں وہ لفظی وحی دیکھی ہے جو ان کی طرف نازل ہوئی۔