تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 67
اسے بات کے سننے میں کوئی شبہ ہو سکتا ہے؟ نہ اسے شبہ ہوتا ہے نہ بات کرنے والے کو کوئی شبہ ہوتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے کلام کو مخفی طور پر بندے کے کان یا اس کے دل یا اس کی زبان وغیرہ پر نازل کردیتا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ میں اس راز میں دوسروں کو شریک کرنا نہیں چاہتا یا اس کے واسطہ سے یہ کلام دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہوں تاکہ اس کی قبولیت اور عظمت دنیا میں قائم ہو۔ورنہ وہ ویسا ہی یقینی اور قطعی کلام ہوتاہے جیسے د۲و دوست جب آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو ان کا ایک دوسرے سے کلام کرنا قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔غرض وحی اس کلام کا نام رکھ کر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں سے بولتا ہے اس میں اور انسانی کلام میں کوئی فرق نہیں۔صرف یہ فرق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آواز کو اس طرح پید اکرتا ہے کہ صرف وہی اسے سنے جسے سنانا مقصود ہے ورنہ وہ ویسا ہی یقینی کلام ہے جیسا کہ د۲و بولنے والوں میں استعمال ہوتا ہے۔باقی رہے ایسے خواب جو تصویری زبان میں ہوں وہ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ کلام ہوتا ہے یعنی تعبیر طلب۔دکھایا کچھ اور جاتا ہے اور مضمون اس کے پیچھے چھپا ہوا ہوتا ہے۔وراء حجاب کے معنے بھی یہی ہیں کہ حقیقت ایک پردہ کے پیچھے مستور ہوتی ہے تم اس پردہ کو اٹھائو تو وہ تمہیں نظر آجائے گی بغیر پردہ اٹھانے کے تم اصل حقیقت سے آگاہ نہیں ہوسکتے۔گویا وحی کے معنے تو لفظی کلام کے ہیں جس کی غرض اس کلام کو غیروں سے چھپانا ہوتا ہے اور مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ کے معنے یہ ہیں کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کرتا ہے کہ حقیقت کو خود اس شخص کے لئے بھی پردہ کے پیچھے مخفی کردیتا ہے جس پر وہ نازل ہورہا ہوتا ہے۔جب تک اس پردہ کو نہ اٹھایا جائے اس وقت تک حقیقت کا انسان کو پورے طور پر علم نہیں ہوسکتا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے فرعون نے ایک دفعہ رؤیا میں دیکھا کہ سات پتلی گائیں سات موٹی گائیں کھا رہی ہیں۔اب خواہ تم سارا دن کہتے رہو کہ پتلی گائیں موٹی گائیں کھارہی ہیں۔پتلی گائیں موٹی گائیں کھارہی ہیں کوئی دوسرا شخص کچھ بھی نہیں سمجھے گا کہ تمہارا اس کلام سے منشاء کیا ہے۔سب تمہاری بات کو سن کر ہنسیں گے کہ پاگل ہوگیا ہے۔لیکن پردہ اٹھائو تو اس کے پیچھے یہ حقیقت مخفی ہوگی کہ قحط کے سات سال خوشحالی کے سات سالوں کے جمع کئے ہوئے غلوں کو کھاجائیں گے۔پس جس چیز کو متقدمین نے موسٰی کے کلام کی مثال قرار دیا ہے وہ درست نہیں۔موسٰی کا کلام وحی میں ہی شامل ہے اور مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ ہم کلامِ خفی میں بات کرتے ہیں یعنی وہ شخص تو ہماری بات سن لیتا ہے جس کو سنانا ہمارے مدّ ِنظر ہوتا ہے لیکن دوسرا شخص ہماری بات کو نہیں سن سکتا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کلام مشتبہ ہوتا ہے۔وہ کلام مشتبہ نہیں بلکہ ویسا ہی یقینی ہوتا ہے جیسے زید اور بکر آپس میں باتیں کرتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کی گفتگو سننے میں