تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 64
بیان کرتا ہوں۔قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ نیز صاحب تجربہ لوگوں کی شہادت سے اس امر کا انکشاف ہوتا ہے کہ وحی کئی اقسام کی ہوتی ہے۔سب سے پہلے ہمیں یہ امر مدّ ِنظر رکھنا چاہیے کہ اس بارہ میں ایک نصِّ قرآنی موجود ہے جو یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ (الشورٰی:۵۲) اس آیت کے میرے نزدیک مفسرین نے صحیح معنے نہیں سمجھے جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ کے غلط معنے لے لئے ہیں۔انہوں نے وحی کے معنے منام اور تسخیر وغیرہ کے کردیئے ہیں اور وَرَآئِ حِجَابٍ کے یہ معنے کرلئے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نظر نہ آتا ہو جس کی مثال میں وہ موسٰی کا کلام پیش کرتے ہیں اور يُرْسِلَ رَسُوْلًا کے معنے یہ کئے ہیں کہ جب جبریل کلام کے ساتھ آئے اور وہ نظر بھی آئے۔آخری صورت میں ہمارا اور ان کا اس فرق سے اتفاق ہے کہ ہم جبریل کے ذریعہ سے کلام آنے کو تو صحیح تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہر ایسی وحی کے نزول کے وقت جبریل نظر بھی آتا ہے۔چند مثالوں پر دھوکا کھاکر یہ غلط قیاس کرلیا گیا ہے۔پہلی اور دوسری صورت پر ہمیں کلی طور پر اعتراض ہے۔پہلی صورت پر تو یہ اعتراض ہے کہ قرآن کریم میں پینسٹھ دفعہ وحی کا لفظ اِلٰى کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔مگر کہیں بھی قرآن کریم میں وحی کا لفظ محض تصویری زبان کے معنوں میں نہیں آیا۔بے شک بعض جگہ مجازی معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے جیسے ایک جگہ وحی کے معنے تسخیر کے آگئے ہیں۔لیکن ان مجازی معنوں کو مستثنیٰ کرتے ہوئے جہاں بھی وحی کا لفظ آیا ہے ایسے ہی اظہار کے متعلق آیا ہے جس کے ساتھ کلام بھی تھا۔اب کیا یہ عجیب بات نہیں ہوگی کہ ہم قرآن کریم کی تفسیر کریں اور وحی پر بحث کرتے ہوئے پینسٹھ جگہ جن معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ان معنوں کو تو نہ لیں اور وحی کے معنے خالص تصویری زبان کے کرلیں۔ان پینسٹھ مقامات کے علاوہ پانچ اور بھی جگہیں ہیں جہاں وحی کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں بھی بمعنے کلام ہی استعمال ہوا ہے صرف ایک جگہ ایسی ہے جہاں وحی کے معنے تسخیر کے علاوہ اور کچھ نہیں کئے جاسکتے اور وہ جگہ وہی ہے جہاں شہد کی مکھی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ (النحل:۶۹) یعنی تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی کی۔اس آیت کو مستثنیٰ کرتے ہوئے کہ اس میں وحی کا لفظ مجازی معنوں میں استعمال ہوا ہے باقی سارے قرآن میں ہرجگہ وحی کا لفظ ایسے ہی اظہار کے متعلق استعمال ہوا ہے جس کے ساتھ کلام بھی ہو۔اور جب ہر جگہ قرآن کریم یہی معنے مراد لیتا ہے تو یہ کیسی عجیب بات ہوگی کہ جن معنوں میں قرآن کریم اس لفظ کا استعمال کرتا ہے ان معنوں کو تو ہم نہ لیں اور اس کے اور معنے کرنے شروع کردیں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ جب کوئی مجبوری پیش آئے تو ہم اس کے معنوں میں مجاز اور استعارہ مراد لے لیں