تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 59
وہی فطرتی مادہ کافی ہوتا ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کیاجاتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں ایسی بیسیوںآیات نازل ہوئی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا مسئلہ بڑے زور کے ساتھ بیان کیا گیا ہے؟ یہ امر ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شرک نہیں کیا۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ مشرکین مکہ میں سے بعض آدمیوں نے آپ کے سامنے کچھ کھانا رکھا مگر چونکہ وہ کھانا بتوں کے چڑھاوے کا تھا آپ نے اس کے کھانے سے انکار کردیا اور زید بن عمرو کی طرف سرکادیا جو حضرت عمرؓ کے چچازاد بھائی تھے اور اس وقت آپ کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے۔مگر انہوں نے بھی وہ کھانا نہ کھایا بلکہ قریش کو مخاطب کرکے کہا کہ ہم بتوں کے چڑھاوے کا کھانا نہیں کھایا کرتے۔(اسد الغابۃ زیر لفظ زید بن عمرو) اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا سے ہی توحید کے قائل تھے اور شرک کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے مگر اس کے باوجود قرآن کریم میں توحید کا مضمون آیا ہے۔قرآن کریم کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ توحید کے مضامین سے بھرا پڑا ہے اور اس میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا ذکر آتا ہے۔پس یہ معنے جو مفردات والوں نے کئے ہیں صحیح نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انبیاء کی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا مادہ پیدا کردیا جاتا ہے کہ وہ طبعی طور پر شرک سے متنفر ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی طرف توحید کے متعلق کسی وحی کے نازل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔باوجود اس کے کہ وہ ذاتی طور پر توحید کے قائل ہوتے ہیں شرک سے متنفر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے سامنے سربسجود ہونے کو جائز نہیں سمجھتے پھر بھی ان کی طرف توحید کے متعلق وحی نازل کی جاتی ہے اور قرآن کریم میں اس کی بیسیوں مثالیں ملتی ہیں۔اس کے بعد لکھتے ہیں وَقَوْلُہٗ تَعَالٰی وَ اِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ فَذَالِکَ وَحْیٌ بِوَاسِطَۃِ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ۔اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ۔میں نے حواریوں کی طرف وحی کی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر حواری کو رات کے وقت الگ الگ وحی ہوئی تھی کہ اٹھ میاں! ہمارے نبی کی مدد کر۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وحی ہوئی اور انہوں نے وہ وحی حواریوں تک پہنچادی یہ با ت واقعہ میں درست ہے اور اس آیت کا یہی مطلب ہے۔وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرٰتِ فَذَالِکَ وَحْیٌ اِلَی الْاُمَمِ بِوَاسِطَۃِ الْاَنْبِیَاءِ۔اور یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ ہم نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ نیک کام کریں یہ وحی امتوں کی طرف ان کے انبیاء کے واسطہ سے تھی۔میرا خیال ہے کہ اس موقعہ پر مفردات والوں نے قرآن کریم کو کھول کر نہیں دیکھا ورنہ وہ ایسا نہ لکھتے۔انہوں نے اِلَيْهِمْ کے لفظ سے یہ سمجھ لیا کہ اس سے تمام بنی نوع انسان مراد ہیںحالانکہ یہ درست نہیں۔یہ آیت سورئہ انبیاء میں آتی ہے اور وہاں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کا