تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 56
جھوٹے مدعی کی علامت پھر امام راغب لکھتے ہیں وَقَوْلُہٗ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَ لَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌفَذَالِکَ لِمَنْ یَّدَّعِیْ شَیْئًا مِّنْ اَنْوَاعِ مَا ذَکَرْنٰہُ مِنَ الْوَحْیِ اَیَّ نَوْعٍ اِدَّعَاہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ حَصَلَ لَہٗ۔یعنی یہ جو قرآن کریم میں آتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے۔حالانکہ اس کی طرف کوئی وحی نہ ہوئی ہو۔اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ فَذَالِکَ لِمَنْ یَّدَّعِیْ شَیْئًا مِّنْ اَنْوَاعِ مَا ذَکَرْنٰہُ مِنَ الْوَحْیِ۔یہ وعید اس شخص کے بارہ میں ہے جو وحی کے متعلق ہماری بیان کردہ قسموں میں سے کسی شق کے ماتحت آجائے اور دعویٰ کرے کہ مجھ پر فلاں قسم کی وحی نازل ہوتی ہے۔اَیَّ نَوْعٍ اِدَّعَاہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ حَصَلَ لَہٗ۔یہ سوال نہیں ہوگا کہ فلاں قسم کی وحی کے متعلق اس نے دعویٰ کیا ہے اور فلاں قسم کی وحی کے متعلق اس نے دعویٰ نہیں کیا۔اوپر کی بیان کردہ قسموں میں سے خواہ کسی قسم کی وحی کا وہ دعویٰ کرے اور اس کی حالت یہ ہو کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نازل نہ ہوتی ہو تو بہرحال وہ اس آیت کے ماتحت آجائے گا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب اس پر نازل ہوگا۔یہ ایک نہایت ہی لطیف بات ہے جو مفردات والوں نے بیان کی ہے۔ان کا مطلب یہ ہے کہ لغت نے تو وحی کے کئی معنے بیان کئے ہیں جن میں سے بعض ایسے ہیں جن کا وحی الٰہی کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں جیسے اشارہ یا ایماء وغیرہ ہے۔اور جب لغت کے اعتبار سے وحی کے کئی ایسے معنے ہیں جن کا وحی الٰہی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَ لَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ میں کس قسم کی وحی کا ذکر کیا گیاہے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں صرف اس وحی الٰہی کا ذکر کیا گیا ہے جس کی مختلف اقسام کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔اگر کسی شخص کا دعویٔ وحی و الہام ان شقوں کے ماتحت نہیں آئے گا تو اس پر اس آیت کا اطلاق بھی نہیں ہوگا۔یہ آیت صرف اسی شخص پر چسپاں ہوگی جو وحی الٰہی کی بیان کردہ قسموں میں سے کسی قسم کا ادّعا کرتا ہو۔یہ ایک لطیف نکتہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہائیوں کو سخت دھوکا لگا ہے۔وہ اپنے پاس سے وحی کی ایک تعریف کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں جب بہاء اللہ اس بات کا مدعی تھا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے اور تمہارے نزدیک وہ جھوٹ اور افتراء سے کام لے رہا تھا تو اس پر عذاب کیوں نہ آیا۔حالانکہ عذاب صرف اس شخص پر نازل ہوسکتا ہے جو وحی کے متعلق قرآن کریم کی بیان کردہ قسموں میں سے کسی قسم کا دعویٰ کرے نہ یہ کہ خلافِ قرآن اورخلافِ اسلام اور خلافِ مذہب وحی کی ایک نئی تعریف کرکے اور اپنے آپ کو اس وحی کا مورد قرار دے کر یہ شور مچانا شروع کردے کہ جب میں اپنے اوپر وحی نازل ہونے کا مدعی ہوں تو مجھ پر عذاب کیوں نہیں آتا۔بے شک اللہ تعالیٰ