تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 57

نے مفتری علی اللہ پر عذاب نازل کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے مگر بہرحال یہ عذاب اسی شخص پر نازل ہوسکتا ہے جو اس قسم کی وحی کا دعویٰ کرے جس سے سابق انبیاء کی نبوتیں مشتبہ ہونے لگ جائیں۔اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھ پر اس قسم کی وحی نازل ہوتی ہے جس قسم کی وحی انبیاء سابقین پرنازل ہوا کرتی تھی۔جس طرح آدمؑ سے خدا تعالیٰ نے کلام کیاتھا یا نوحؑ سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا یا ابراہیمؑ سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا یا موسٰی سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا یا عیسٰیؑ سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ نے کلام کیا تھا۔اسی طرح مجھ سے خدا تعالیٰ کلام کرتا ہے اور وہ کلام اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے بھی ویسا ہی ہے جیسے انبیاء کا کلام ہوتا ہے تو پھر بے شک اس کے جھوٹے ہونے کی صورت میں خطرہ ہوسکتا ہے کہ لوگ ٹھوکر نہ کھائیں اور بے شک اس وقت ضروری ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے۔لیکن اگر وہ وحی کی اپنے پا س سے ایک نئی تشریح کرتا ہے اور اس نئی قسم کی وحی کا اپنے آپ کو مورد قرار دیتا ہے تو وہ قرآنی وعید کے ماتحت نہیں آسکتا۔بہاء اللہ کی وحی اس کے دل کے خیالات کا نام ہے جیسے بہائیوں کی حالت ہے کہ ان کے نزدیک وحی صرف قلبی خیالات کا نام ہے۔وہ بہاء اللہ کی نسبت لفظی الہام کے قائل نہیں ہیں الا ماشاء اللہ۔وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کے دل میں جو بھی خیال پیدا ہوتا ہے وہ وحی ہوتا ہے۔یہی حال لاہور کے میاں غلام محمد کا ہے کہ وہ بھی اپنے دل کے خیالات کا نام وحی رکھ لیتے ہیں۔اب اگر دنیا میں کوئی شخص ایسا ہے جو کہتا ہے کہ میرے دل میں جو بھی خیال اٹھتا ہے وہ وحی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اسے سزا دینے کی کیا ضرورت ہے۔ہر شخص ایسے مدعی کا پاگل ہونا آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو سزا دینے کی تو تب ضرورت محسوس ہو جب کسی کے دعویٔ وحی و الہام سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت مشتبہ ہونے لگے یا موسٰی اور عیسٰیؑ کی وحی کا معاملہ مشتبہ ہونے لگے اور یہ معاملہ اسی وقت مشتبہ ہوسکتا ہے جب کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ مجھ پر اسی رنگ میںکلام نازل ہوتا ہے جس رنگ میں کلام موسٰی پر نازل ہوا۔یا مجھ پر اسی رنگ میںکلام نازل ہوتاہے جس رنگ میں عیسٰیؑ پر کلام نازل ہوا۔یا مجھ پر اسی رنگ میں کلام نازل ہوتا ہے جس رنگ میں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کلام نازل ہوا۔جب تک کوئی شخص اس قسم کی وحی کا اپنے آپ کو مورد قرار نہیں دیتا اس کے دعویٰ سے کوئی حقیقی خطرہ پیدا نہیں ہوتا۔پس اس کا لازماً الٰہی گرفت میں آنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔پس مفردات والے کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں تقوّل اور افتراء علی اللہ سے کام لینے والوں کے لئے جس عذاب کی خبر دی گئی ہے وہ اسی صورت میں نازل ہوسکتا ہے جب کوئی شخص جھوٹے طور پر اس وحی کا دعویٰ کرے جس کی مختلف اقسام کا ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں۔ان میں سے خواہ کسی قسم کا وہ مدعی بن جائے اللہ تعالیٰ اسے یقیناً عذاب