تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 54
اصل بات یہ ہے کہ الہام کے وقت چونکہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ایک آواز پیدا کرتا ہے اور اس آواز میں شیطان بھی دخل دے سکتا ہے اس لئے فرشتوں کا ساتھ ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ بندہ کے دل میں وہ اس وحی کی صداقت کے متعلق یقین پیدا کریں جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں لکھا ہے کہ خواہ مجھے صلیب پر لٹکادیا جائے مجھے اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتاکہ وہ کلام جو مجھ پر نازل ہوتا ہے اسی خدا کا کلام ہے جس نے آدمؑ سے کلام کیا، جس نے نوحؑ سے کلام کیا، جس نے ابراہیمؑ سے کلام کیا، جس نے موسٰی سے کلام کیا، جس نے عیسٰیؑ سے کلام کیا اور جس نے سب سے بڑھ کر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کیا۔یہ یقین فرشتوں کی حفاظت کی وجہ سے ہی پید اہوتا ہے مگر عام لوگوں کے الہامات کے ساتھ چونکہ فرشتے نہیں اترتے اس لئے باوجود الہام کے ان کے اندر یقین اور ثبات اور استقلال نہیں پایا جاتا۔ہم نے دیکھا ہے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہمیں خدا نے بتایا ہے کہ آپ سچے ہیں۔اس وقت وہ روتے بھی ہیں گڑگڑاتے بھی ہیں اپنے سابق اعمال پر پشیمانی او رندامت کا بھی اظہار کرتے ہیں اور آئندہ کے متعلق بڑے بڑے وعدے بھی کرتےہیں مگر چند دنوں کے بعد ہی مرتد ہوجاتے ہیں۔اب جہاں تک ان کی بات کا تعلق ہوتا ہے وہ سچی ہوتی ہےواقعہ میں انہیں الہام ہوا ہوتا ہے اور اسی کی بناء پر وہ بیعت کے لئے آتے ہیں مگر چونکہ فرشتے ان کے ساتھ نہیں ہوتے ان کے قلب کو وہ ثبات نہیں بخشا جاتا جو انبیاء و اولیاء کے قلوب کو بخشا جاتا ہے اسی لئے وہ تھوڑے سے ابتلاء کو بھی برداشت نہیں کرسکتے اور ٹھوکر کھاجاتے ہیں۔لیکن نبی کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ پہلے الہام کے ساتھ ہی اس کے دل کو غیر معمولی ثبات عطا کیاجاتا ہے اور اپنے الہام پر سب سے پہلا ایمان لانے والا خود نبی کا وجود ہوتا ہے۔اسی وجہ سے ہر نبی اپنے آپ کو اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ(الانعام:۱۶۴) یا اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ(الاعراف:۱۴۴) قرار دیتا ہے۔کیونکہ اگر اسے خود یقین نہ ہو تو وہ دوسروں کے دل میں کس طرح یقین پیدا کرسکتا ہے۔چونکہ پہلا یقین خود نبی کے دل میں پیدا کیا جاتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ بعد میں ساری دنیا مخالف ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ انذاری پیشگوئیاں اپنی مخفی یا ظاہر شرائط کی بناء پر ٹل بھی جاتی ہیں اسے ایک لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے الہامات کی صداقت میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب آتھم والی پیشگوئی کی اورمیعاد کے ختم ہونے کا دن آیا تو مجھے وہ نظارہ اب تک یاد ہے کہ آج کل جہاں حکیم مولوی قطب الدین صاحب کا مطب ہے وہاں لوگ جمع ہوئے اور چیخیں مارمار کر دعائیں کرنے لگے کہ الٰہی یہ پیشگوئی ضرور پوری ہوجائے۔ایک پٹھان عبدالعزیز ہوا کرتا تھا وہ تو دیوار کے ساتھ