تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 53

کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنا کلام ملائکہ کے ذریعہ نازل فرماتا ہے اس کے یہ معنے نہیں کہ ملائکہ صرف اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا والی وحی کے ساتھ نازل ہوتے ہیں بلا واسطہ وحی کے ساتھ نازل نہیں ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کے ہر الہام کے ساتھ ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور کوئی ایک الہام بھی ایسا نہیں ہوسکتا جس کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ اس کے ساتھ فرشتے نازل نہیں ہوتے۔مگر بعض لوگ غلط فہمی سے اس کا یہ مطلب لے لیتے ہیں کہ جبریل ہر الہام کے ساتھ آکر کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فلاں بات آپ کو پہنچانے کا حکم دیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں۔ملائکہ کے نزول کے صرف اتنے معنے ہیں کہ ہر الہام فرشتوں کی حفاظت کے ساتھ آتا ہے۔یہ معنے نہیں کہ ہر الہام کے ساتھ فرشتے آکر یہ کہتے بھی ہیں کہ ہمیں فلاں بات پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہامات اس کی تائید میں موجود ہیں۔مثلاً ایک الہام میں تو یہ ذکر آگیا کہ جَاءَنِیْ اٰیِلٌ (تذکرہ صفحہ ۵۵۹)۔میرے پاس جبریل آیا۔مگر باقی الہامات کے ساتھ یہ بات بیان نہیں ہوئی جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اس رنگ میں نہیں جس رنگ میں لوگ سمجھتے ہیں۔یہ نہیں کہ جب آپ کو یہ الہام ہوا تھا کہ اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً (تذکرہ صفحہ ۳۳۳) تو فرشتوں نے آکر یہ کہا ہو کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ الہام نازل کرنے کا حکم دیا ہے۔ایسا نہیں ہوا کرتا بلکہ بندہ اس وقت یہ محسوس کیا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست ایک کلام مجھ پر نازل ہورہا ہے مگر قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اس کلام کے ساتھ حفاظت کے لئے ضرور آتے ہیں۔عام لوگوں کے الہامات کے ساتھ اس لئے نہیں آتے کہ اگر ان الہامات میں کوئی گڑ بڑ بھی ہوجائے تو پروا نہیں ہوتی لیکن انبیاء یا ان سے اتر کر وہ لوگ جو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑے کئے جاتے ہیںان کے الہامات چونکہ لوگوں کے لئے حجت ہوتے ہیں اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ فرشتوں کی حفاظت میں اتارے جائیں۔بہرحال الہامات کے ساتھ فرشتوں کا نازل ہونا یہ معنے نہیں رکھتا کہ مثلاً جب آیت الٓمّٓ۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ اتری تھی تو اس وقت جبریل نے آکر یہ کہا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں یہ آیت آپ تک پہنچادوں۔ایسا ذکر صرف چند سورتوں کے متعلق آیا ہے۔مثلاً سورۃ البینہ کے متعلق آتا ہے یا یہ آتا ہے کہ رمضان المبارک کے ایام میں جبریل آتے اور جس قدر حصۂ قرآن نازل ہوچکا ہوتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس کا تکرار کیا کرتے۔(مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عباس۔بخاری کتاب بدء الوحی کیف کان بدء الوحی) مگر ہر الہام کے متعلق نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ احادیث سے کہ جبریل آکر یہ کہتا ہو کہ مجھے خدا نے فلاں بات پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ہاں ہر الہام کے ساتھ حفاظت جبریل ضرور ہوتی ہے۔