تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 567
اتنے شریف اور اچھے تھے کہ انہوں نے میرے اندر یُتم کا احساس پیدا نہیں ہو نے دیا۔اب میرا بھی فرض ہے کہ میں اس دکھ کو دور کروں۔یہ احساس تو پیدا ہو سکتا ہے اور عقل بھی اسے مان سکتی ہے لیکن اس کے سوا کسی انسانی اثر کو عقل نہیں مان سکتی۔لیکن حقیقت وہی ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ تمام عقلی دلائل او رنقلی براہین اس امر پر شاہد ہیں کہ یہ تعلیم آسمانی ہے انسانی نہیں۔دوسرا اعتراض یہا ں یہ پید اہوتا ہے کہ ہم یہ کیسے تسلیم کر لیں کے دین کے انکار کا طبعی نتیجہ یتیم کو دھتکارنا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ دین کا نتیجہ تو بے شک یتیم کو دھتکارنا نہیں مگر جو بارہ معنے میں اوپر بیان کر آیا ہوں ان میں سے ہر ایک کے انکار کا نتیجہ یتیم کا دھتکارنا بھی اور دوسری بدیاں بھی ہیں۔لفظ دین کو رسمی دین کے معنوں میں نہیں لینا چاہیے بلکہ ان بارہ۱۲ معنوں کو مدّ ِنظر رکھنا چاہیے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے انکار کا نتیجہ بدی اورگناہ ہے اور بدیوں اور گناہوں میں سے ایک اہم بدی یتیم کو دھتکارنے کی ہے اور اس کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ فعل گناہ ہی نہیں بلکہ اس میں دنایت بھی پائی جاتی ہے اور اس فعل کا مرتکب انسانیت سے بہت ہی گرا ہوا شخص معلوم ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ یہ گناہ قومی گناہ ہے اس سے قومی شیرازہ بکھرتا ہے اور آئندہ نسل کے اخلاق اور موجودہ نسل کی قربانیوںپر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کو بطور معیّن نتیجہ کے بیان نہیں کیا بلکہ بطور مثال بیان کیا ہے۔دین کے انکار کے کئی نتیجے ہو تے ہیں ان میںسے ایک نتیجہ یہاں بطور مثال کے لیا گیا ہے۔اور پھر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ اوپر بطور اشارہ لکھا جا چکا ہے یتیم کی طرف توجہ نہ کرنا قوم کو تنزّل کی طرف لے جاتا ہے۔قوم افراد کے ایثار اور قربانی سے بنتی ہے اور افرا د کے پیچھے رہنے والی چیز اولاد ہو تی ہے۔انسان قوم کی خاطر مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے مگر جب وہ دیکھتا ہے کہ میری اولاد پیچھے رہ جائے گی ان کی کوئی پرورش نہیں کرے گااور وہ یوں ہی ضائع ہو جائے گی تو وہ قربانی کرنے سے رک جاتا ہے۔اگرصرف اس کی جان کا سوال ہوتا تو وہ پروا بھی نہ کرتا مگر چونکہ اولاد کا سوال اس کے سامنے آجاتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ اس کی پرورش کون کرے گا تو وہ قربانی سے رک جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جان کی قربانی کےموقع پر اکثر جوان ہی آگے آتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ نوجوان زیادہ عقل مند ہوتے ہیں بلکہ صر ف اس لئے کہ وہ یا تو شادی شدہ نہیں ہوتے اور اگر شادی شدہ بھی ہوتے ہیں تو ان کی اولادنہیں ہو تی۔اس لئے انہیں اپنی موت کے بعد کسی کا فکر نہیں ہو تا۔اور کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو انہیں قربانی سے روکنے والی ہو۔لیکن بڑی عمر والوں کے بیوی اور بچے ہوتے ہیں وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ مارے گئے تو ان کی بیویاں بیوہ رہ جائیں گی، اولاد یتیم ہو جائے گی، کوئی ان سے حسن سلوک