تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 564
آپ پر ایسا دن آیا ہی نہیں کہ جب آپ نےیُتم کو محسوس کیا ہو۔بے شک آپ یتیم تھے لیکن ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے تھے جن کی وجہ سے آپ نے یُتم محسوس نہیںکیا چنانچہ آپ کے والد کی وفات پر آپ کے دادا نے آپؐکو اپنا بیٹا بنا لیا اور آپ اپنی والدہ کے ہی انتظام میں رہے آپ کے دادا نے یہ نہیں کیا کہ آپ کو والدہ سے چھین لیا ہو۔جیسے بعض ظالم کرتے ہیں ظاہری طور پر تو وہ کہتے ہیں کہ ہم یتیم کی پرورش کر رہے ہیں لیکن در اصل ماں کو دکھ پہنچانا ان کا مقصود ہوتا ہے۔اگر عبد المطلب آپ کو آپ کی والدہ سے لےلیتے تو بظاہر ماں کو دکھ ہوتا لیکن اس کا اثر آپ پر بھی پڑتا۔اگر ایساہوتا تو ردّ عمل کا سوال پیدا ہو سکتا تھا۔آپ دوسرے بچوں کو ماں ماں کہتے سنتے اور ماں باپ کا اپنے بچوں سے نیک سلوک دیکھتے تو آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیداہوتی کہ کاش میری بھی ماں ہوتی یا یہ خیال پیدا ہوتا کہ اگر میر ابھی باپ ہو تا تو مجھے کوئی میری ماں سے کیوں چھینتا۔لیکن عبد المطلب نے ایسا نہیں کیا۔آپ کے والد کے فوت ہو جانے کے بعد آپ کو آپ کی والدہ کے قبضہ میں ہی رہنے دیا اور کہا کہ اس کے باپ کی جگہ مجھے سمجھو۔لیکن اس کی پر ورش کاانتظام تم ہی کرو کوئی تکلیف ہو یا کوئی ضرورت ہو تو مجھے بتاؤ۔یہ نہ سمجھنا کہ اس کا باپ فوت ہوگیا ہے جب واقعات یہ تھے تو قدرتی بات ہے کہ آپ کے اندر اپنے یتیم ہو نے کا ردّ عمل پیدا نہیں ہوسکتاتھا۔پھر مکہ کے دستور کے مطابق بچوںکو کچھ عرصہ کے لئے مکہ سے باہر بھیج دیا جاتا تھا کہ وہ بچپن گاؤں میں گذار آئیں تا ان کی زبان اچھی ہو جائے اور صحت بھی اچھی ہو جائے۔گاؤں والوں کی زبان زیادہ صاف ہو تی تھی۔عرب اور دوسرے ملکوں میں یہ فرق ہے کہ دوسرے کسی ملک کی دیہاتی زبان صاف نہیں ہو تی بلکہ شہری زبان صاف ہو تی ہے۔لیکن عرب میں شہروں کی زبان ادنیٰ سمجھی جاتی تھی اور گاؤں کی زبان اعلیٰ سمجھی جاتی تھی اصل میں تو سب کا سب عرب ہی زبان کے لحاظ سے ایک سطح پر تھا۔شہر اور گاؤں کی بولی ایک ہی قسم کی تھی لیکن شہر والے لوگ چونکہ غیر ممالک کے لوگوں سے ملتے جلتے رہتے تھے اس لئے ان کی زبان میں دوسری زبانوں کے بعض الفاظ مل گئے تھے اس لئے عرب میں یہ دستور تھا کہ بچپن میں پانچ سات سال تک کے لئےبچوں کو مکہ سے باہر بھیج دیا جاتا تھا تا مضبوط ماں کا دودھ پینے کی وجہ سے ان کی صحت اچھی ہو جائے اور گاؤں میں رہنے سے زبان بھی دوسری زبانوں کے اختلاط سے محفوظ رہے مکہ سے باہر کے جو گاؤں تھے ان کی عورتیں آتی تھیں اور مکہ والے انہیں اپنے بچے دے دیتے تھے اور وہ ان کو پال کر لے آتی تھیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ نے بھی ایسا ہی کیا۔آپ کی والدہ نے بھی چاہا کہ وہ اپنا بچہ کسی عورت کو دے دیں تا وہ اسے پال کر لے آئے۔لیکن چونکہ آپ یتیم تھے اس لئے کوئی عورت اس خیال سے آپ کو لینے کے لئے تیار نہیں تھی کہ ان کے پالنے کے بعد انعام کون دے گا۔ان باہر سے