تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 52
نہیں کہ اسے قبول کیاجائے۔الہام کے معنے سمجھنے میں پہلے علماء کی غلط فہمی اصل بات یہ ہے کہ الہام کے معنے سمجھنے میں پہلے علماء کو بہت کچھ غلط فہمی ہوئی ہے اور اسی بنا پر وہ الہام کی تعریف یہ کرتے رہے ہیں کہ در دل انداختن۔ایسی بات جو دل میں ڈال دی جائے اس کو الہام کہتے ہیں۔حالانکہ الہام اور وحی دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ان میں کسی قسم کا فرق نہیں۔یہ صرف صوفیاء کی اصطلاح تھی کہ انہوں نے اس کلام کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نازل ہوتا تھا الہام کہنا شروع کردیا تاکہ لوگ کسی فتنہ میں نہ پڑیں ورنہ الہام اور وحی میں کوئی فرق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کئی جگہ الہام کا لفظ استعمال کیا ہے مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ میں اس کلام کو الہام صرف اس لئے کہتا ہوں کہ صوفیاء نے ایک اصطلاح قائم کردی ہے اور لوگوں میں اس اصطلاح کا رواج ہوگیا ہے۔ورنہ میں اس بات کا قائل نہیں کہ الہام اور چیز ہے اور وحی اور چیز۔جس چیز کا نام لوگ الہام رکھتے ہیں اسی چیز کا نام وحی ہے۔پس الہام و ہ اصطلاح ہے جو لفظی کلام کے متعلق صوفیاء نے قائم کی ہے ورنہ قرآن کریم میں ہر جگہ وحی کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے الہام کا لفظ صرف ایک جگہ استعمال ہوا ہے اور وہ بھی وحی کے معنوں میں نہیں بلکہ میلانِ طبیعت کے معنوں میں جیسا کہ فرماتا ہے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا(الشمس:۹) اللہ تعالیٰ نے انسان کو برائیوں اور نیکیوں کے متعلق الہام کیا ہے۔اب اس کے معنے کسی خارجی الہام کے نہیں بلکہ صرف میلانِ طبع کے معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ تسخیر اور میلان میں فرق ہوتا ہے۔میلان تو اختیاری ہوتا ہے لیکن تسخیر اختیاری نہیں ہوتی بلکہ جس لائن پر کسی چیز کو کھڑا کردیا جائے وہ مجبور ہوتی ہے کہ اسی لائن پر کھڑی رہے اور اس سے ذرا بھی اِدھر اُدھر نہ ہو۔مثلاً مکھی یہ نہیں کرسکتی کہ وہ شہد بنانا چھوڑ دے لیکن انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے تو تقویٰ اختیار کرے اور چاہے تو فجور کے راستہ پر چل پڑے۔پس الہام کا لفظ جو مفردات والوں نے استعمال کیا ہے قرآن کریم میں ان معنوں میں استعمال ہی نہیں ہوا جن معنوں میں انہوں نے استعمال کیا ہے اور نہ الہام کا لفظ آیت میں ان معنوں میں استعمال ہوا ہے جو صوفیاء مراد لیتے ہیں۔یہ لفظ بعد کے زمانہ میں صوفیاء نے لفظی وحی کے لئے ایجاد کیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کے متعلق یہ وضاحت فرما دی ہے کہ جو کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتا ہے وہی وحی ہے مگر چونکہ لوگوں میں اس کے متعلق الہام کا لفظ رائج ہے اس لئے میں بھی اسے الہام کہہ دیتا ہوں ورنہ الہام اور وحی دونوں مترادف الفاظ ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔(براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۴۴) الہامات کے ساتھ نزول ملائکہ کی وجہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں جو یہ مسئلہ پایا جاتا ہے