تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 554

ہر ایک کی مدد کرتے ہیں ہم مومن کی بھی مدد کرتے ہیں اور کافر کی بھی مدد کرتے ہیں دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مومن کو بھی روزی دیتا ہے اور کافر کو بھی روزی دیتا ہے۔مومن کی کوشش کو بھی کامیاب کرتا ہے اور کافر کی کوشش کو بھی کامیاب کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کافر کو بھی دنیوی فوائد کے حصول میں جن کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں مدد دیتے ہیں۔تو جو ہم سے ملنے کی کوشش کرے اسے ہم کیوں مدد نہیں دیں گے۔جب خدا تعالیٰ اپنے دشمن کی بھی مدد کرتا ہے تو وہ اپنے دوست کی مددکیوں نہیں کرے گا۔حقیقت یہی ہے کہ تدبیر کا رستہ کھلا ہے۔پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَذَكِّرْ اِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرٰى (الاعلٰی:۱۰) تو نصیحت کرتا جا کیونکہ نصیحت ہمیشہ ہی فائد دیتی ہے۔یہ تدبیر کبھی رائیگاں نہیں گئی۔جب کسی قوم کے افراد نے اصلاح کر لی وہ ہمیشہ ہی کامیاب ہوئے۔’’اِنْ‘‘ کہہ کر اس بات پرزور دیا گیا ہے کہ یہ قطعی اور لازمی بات ہے کہ نصیحت ہمیشہ کامیاب رہتی ہے۔اسی طرح ایک اور جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا۠ لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۔اُولٰٓىِٕكَ جَزَآ ؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ۔( اٰل عـمران :۱۳۶،۱۳۷) وہ لوگ جن سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے، کوئی بدی ہو جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کر لیتے ہیں، خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو گناہوں سے بچاسکے یہ جملہ معترضہ ہے آگے فرماتا ہے وَ لَمْ يُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ وہ استغفار کرتے ہیں اور اپنے اس گناہ پر اصرار نہیں کرتے اور جانتے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے ایک راستہ نجات کا بنا چھوڑا ہے اگر وہ گناہ چھوڑنا چاہیں تو چھوڑ سکتے ہیں۔ا ن لوگوں کی جو اس نکتہ کو سمجھتے ہیں یہ جزا ہو گی کہ وہ اپنی کوشش اور جدو جہد سے خدا تعالیٰ کو پالیں گے اور ان کو مغفرت ملے گی اور باغات ملیں گے جن کے نیچےنہریں بہہ رہی ہوں گی اور یہ انعام عارضی نہیں ہو گا بلکہ وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے اور محنت کرنے والوں کا بدلہ اچھا ہی ہوتا ہے یعنی جو کوئی بھی کوشش کرے گا اپنی کوشش میں ناکام نہیں ہو گا۔دیکھو کتنا صاف رستہ کھولا گیا ہے جو کوئی بھی کوشش کرتا ہے وہ بدیوں اور گناہوں پر غالب آجاتا ہے۔میں کہتا ہوں اگر وہ غالب نہیں بھی آتا بلکہ شیطان سے لڑائی کرتا ہوا مر جاتا ہے تب بھی اسے یہی بدلہ ملے گا کیا کوئی سمجھدار انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ سپاہی جو لڑتےلڑتے فتح سے پہلے مر جاتا ہے اس پر ملک والے ناراض ہو تے ہیں ؟کیا ملک والے اس پر اس لئے ناخوش ہو تے ہیں کہ وہ فتح سے پہلے کیوں مر گیا؟ بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ جو سپاہی جنگ میں لڑتے لڑتے مر جاتے ہیں ان کو بعد میں بڑے بڑے انعام ملتے ہیں۔برطانوی فوج