تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 553
دیتا ہے۔لیکن یہ سب ڈھکوسلےاور غلط خیالات ہیں درحقیقت خدا تعالیٰ نے ہمیں جنت کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ جنت میں پہنچانے کے لئے ہماری مدد بھی کرتا ہے۔اگر کوئی شخص اس حقیقت کو سمجھ لے تو ظاہر ہے کہ اس کے دل میں جنت کے لئے بے حد شوق پیدا ہو جائے گا اور وہ اس کے لئے بے انتہا کوشش اور جدو جہد کرے گا۔وہ اپنے نفس کی اصلاح کر کے اسے اس قابل بنائے گا کہ جنت کا اہل بن جائے۔اگر وہ اپنی زندگی میں گناہ بھی کرتا رہا ہے تب بھی وہ مایوس نہیں ہو گا اسے یہ امید ہو گی کہ وہ اب بھی نیک عمل کرے تو جنت کو حاصل کر سکتا ہے۔پس قضائے الٰہی پر ایمان اور یقین ہو نے سے انسان کا حوصلہ پست نہیں ہوتابلکہ اس کا حوصلہ بلند ہو تا ہے۔اگر انسان کو قرآن کریم کی بتائی ہوئی قضائے الٰہی پر یقین ہو گا تو وہ جنت کو حاصل کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گا اورجسے اس پر ایمان نہ ہو گا وہ مایوس ہو کر گناہ کے سمندر میں کود پڑے گا اور کہے گا کہ انجام تو خراب ہے ہی کیوں نہ اس دنیا کی لذتوں سے فائدہ اٹھاؤں۔دین کے گیارھویں معنے تدبیر کے (۱۱)گیارھویں معنے دین کے تدبیر کے ہیں۔تدبیر کا منکر بھی مختلف گناہوں کا مرتکب ہو جاتا ہے اور نیکیوں سے محروم ہو جاتا ہے۔اگر کوئی شخص تدبیر کا منکر ہے۔کوشش اور اصلاح کامنکر ہے وہ سمجھتاہے کہ اگر وہ ایک دفعہ گر گیا تو گر گیا۔ایسے شخص کا بچنا بھی مشکل ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے یہ خیال مت کرو کہ ہم نے تمہیں تدبیر کرنے اور بدی کا مقابلہ کرنے کی قوتیں اور طاقتیں عطا نہیں کیں۔ہم نے تمہیں سب طاقتیںدی ہیں۔اگر تمہاری نیت نیک ہو اور ان طاقتوں کو جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں استعمال کرو تو تم بدیوں سے بچ سکتے ہو۔لیکن جو شخص تدبیر کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ اگر اس نے ایک گناہ بھی کر لیا تو پھر اس کا بچنا مشکل ہے ایسا انسان مختلف بدیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔جب وہ تدبیر کا ہی قائل نہیں تو وہ بدیوں سے بچنے کی کوشش ہی کیا کرے گا۔مجھے یاد ہے بچپن میں میرا ایک دوست تھا مجھے اس کی بعض بدیوں کا پتہ لگا۔میں نے اس سے پوچھا کیا یہ ٹھیک ہے کہ تم میںفلاں فلاںبدیاں پائی جاتی ہیں ؟ اس نے کہا ٹھیک ہے۔لیکن میں جانتا ہوں کہ میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کہ اب سزا سے بچ نہیں سکتا اور مجھے دوزخ میں جانا ہی ہے اس لئے اب میں گناہ خوب زور سے کرتا ہوں کہ اس زندگی کے تو لطف اٹھا لوں۔میں نے اسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے اندر ایسی طاقتیں پیدا کر دی ہیں جن کے ذریعہ اگر وہ چاہے تو بدیوں پر غالب آسکتا ہے وہ سمجھ گیا اور اس کے بعد اس نے اصلاح کی کوشش کی جس سےاس کی اصلاح ہو گئی اور وہ بدیوں پر غالب آگیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ(بنی اسـرآءیل:۲۱) ہم