تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 549

ہیں، مچھلی کے کباب اڑاتے ہیں، مرغے اڑاتے ہیں، برف والا پانی پیتے ہیں۔لیکن یہ اپنے اوپر پانی بھی حرام کر لیتا ہے اور سارا دن کچھ نہیں کھاتا۔یہ دوزخ ہے یا نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ کہ ہر ایک جنّ و انس کو جہنم میں سے ہو کر جانا پڑےگا ایک طرف واضح طور پر یہ کہہ دیا گیا ہے کہ مومن کامل سیدھا جنت میں جائے گا۔اور دوسری طرف یہ فرمایا گیا ہے کہ جنت بغیر کانٹوں میں سے گذرے نہیں ملے گی۔پس ثابت ہوا کہ ہر انسان کو دوزخ میں سے ہو کر گذرنا پڑے گا خواہ وہ دوزخ انسان اصلاح نفس کے لئے خود تیار کرے یعنی اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے، قربانیاں کرے، اپنی زبان کو روکے اور اپنے نفس کو شہوات سے روکے اور خواہ اس دوزخ میں سے گذرنے کے لئے تیار ہو جائے جو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی دوزخ ہے۔اوّل الذکر دوزخ میں سے سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کے انبیاء گذرے ہیں۔خدا تعالیٰ کے انبیاء سے زیادہ دنیا میں خدا تعالیٰ کی خاطر کون تکلیف اٹھاتا ہے۔اپنے لئے سب سے بڑا دوزخ انبیاء ہی تیار کرتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جتنا زیادہ کسی کو خدا تعالیٰ سے پیار ہو گا اتنی ہی زیادہ وہ دنیا میں تکلیفیں اٹھائے گا پس لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ میں یا تو اس آیت کے سباق کی طرف اشارہ ہے جس میںکفار کا ذکر ہے اور یا دوزخ سے مراد یہاں صرف خدا تعالیٰ کی ناراضگی والی دوزخ نہیں بلکہ وہ تکلیف و دکھ کی دوزخ بھی مراد ہے جس میں سے مومن خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اپنی مرضی سے گذرتا ہے۔دوسری بعض آیات جو اس مضمون کو واضح کرتی ہیں کہ ہر جنّ و انس دوزخ میں سے ہو کر نہیں جائے گا یہ ہیں وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١ٞ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيْنَ۔الَّذِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ يَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَ۔وَ بَيْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِيْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١۫ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ۔وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا يَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ۠۔اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا