تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 548
اور حضرت نوح علیہ السلام بھی ایک وقت دوزخ میں جائیں گے کس طرح درست ہو سکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہےکہ ان آیات نے صاف طور پر ثابت کر دیا ہے کہ بہت سے مومن ایسے ہوں گے ( اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کی تعداد کیا ہوگی کروڑوں ہو گی یااربوں ہو گی ) جو سیدھے جنت میں جائیں گے اور دوزخ ا ن کے پاس بھی نہیں پھٹکے گی۔اگر یہ ٹھیک ہے تو لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ کے کیا معنے ہوں گے ؟سو اس کے ایک معنے تو یہ ہو سکتے ہیں کہ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ دونوں میںالف لام عہد کا ہے۔الف لام کے کئی معنے ہوتے ہیں الف لام جنس کے لئے بھی آتا ہے یعنی کسی جنس کے جتنے افراد ہو تے ہیںوہ سب اس میں شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح معہود ذہنی یا ذکری کے لئے بھی آتا ہے یعنی جس جماعت کا پہلے ذکر کیا جا چکا ہو اس کی طرف اس میںاشارہ ہو تا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں جَاءَالرِّجَالُ۔لوگ آگئے۔یہاں الف لام جنس کے لئے نہیں اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ دنیا کے سب لوگ آگئے۔بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے آنے کی ہم امید کرتے ہیں یا جن کا پہلے ذکر کیا گیا۔پس الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ سےمراد یہاں یہ ہوںگے کہ وہ جنّ و انس جن کا ذکر پہلے کیا گیا ہے سب دوزخ میں جائیں گے اور پہلے ذکر کفار کا ہے مومنوں کا نہیں۔پس مطلب یہ ہوا کہ کفار میں سے بڑےلوگ اور عوام الناس سب جہنم میں جائیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک سب برابر ہیں۔خواہ کوئی بادشاہ ہو یا فقیر کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہو سکتے ہیں کہ جنت کے لئے بھی دوزخ میں سے ہو کر رستہ ملتا ہے۔اس دوزخ سے مراد خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی دوزخ نہیں بلکہ محض تکالیف مراد ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دوزخ دو قسم کی ہو تی ہے ایک خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی دوزخ۔دوم وہ دوزخ جو انسان خود اپنے نفس کو کچلنے کے لئے دنیا میں تیار کرتا ہے۔یعنی ایک دوزخ انسان خود بناتا ہے اور ایک دوزخ خدا تعالیٰ بناتا ہے۔جو دوزخ خدا تعالیٰ بناتا ہے وہ اس کی ناراضگی پر دلالت کرتی ہے اور جو دوزخ انسان خود اپنے نفس کو کچلنے کے لئے تیار کرتا ہے ( اگرچہ وہ ظاہر میں دوزخ معلوم ہو تی ہے لیکن اصل میں وہ جنت ہو تی ہے )وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ انسان خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خود اپنے اوپر اسے وارد کرلیتا ہے۔مثلاً ایک انسان رات کو اٹھتا ہے، اپنے آرام کو خراب کرتا ہے، دوسرے لوگ سو رہے ہو تے ہیں، نیند کے مزے لے رہے ہو تے ہیں ،بستروں میں آرام کر رہے ہو تے ہیں لیکن یہ اٹھتا ہے، اپنے آرام کی پرواہ نہیں کرتا، نیند کو خراب کرتا ہے، تکلیف اٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔یا لوگ روپیہ جمع کرتے ہیں مگر یہ اپنے مال کو خدا تعالیٰ کی راہ میں لٹاتا ہے، اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کی راہ میں اسے خرچ کرتا ہے اور اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالتا ہے یا یہ روزے رکھتا ہے، دوسرے لوگ عیش کی زندگی گذارتے