تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 547
ہے۔یعنی اس نے کوئی بھی ایسا حکم نازل نہیں کیا جو ہمارے لئے مضرّت رساں ہو۔ہر حکم جو اس کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ ہمارے لئے مفید اور بابرکت ہے اور ہماری ترقیات کے لئے ہے پس جب خدا تعالیٰ کا کلام خیر ہی خیر ہے جب خدا تعالیٰ کا کلام خوبی ہی خوبی ہے۔جب خدا تعالیٰ کا کلام نیکی ہی نیکی ہے تو لازمی بات ہے کہ جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان کے لئے ورلی دنیا میں بھی بھلائی ہو گی اور اگلے جہان میں بھی بھلائی ہو گی اور ان کو ہمیشہ رہنے والے باغات ملیں گے جن میں ہر خواہش پوری ہو گی۔اللہ تعالیٰ متقیوں کو اسی طرح بدلہ دیتا ہے۔ملائکہ ان کی روح اس حالت میں نکالیں گے کہ وہ مومن بالکل پاک صاف ہوں گے تب ملائکہ ان سے کہیں گے کہ تم پر ایک عظیم الشان سلامتی کا نزول ہو نے والا ہے۔جاؤ اور جا کر جنت ِ الٰہی میں داخل ہو جاؤ۔یعنی جنت میں داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا وصال جو سب سلامتیوں کا سردار ہے تم کو حاصل ہو گا۔پس جس مومن کے لئے اس جہان میں بھی جنت ہے اور اگلے جہان میںبھی اسے جنت ملے گی اس کے دوزخ میں جانے کا امکان ہی نہیں۔مذکورہ بالا آیت میں جو الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ فرمایا ہے اس سے ظاہر ہے کہ یہاں متقیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی کی صورت میں مریں۔متقی سے یہ مراد نہیں کہ وہ بچپن سے آخر عمر تک نیکی ہی نیکی کرے۔بلکہ موت سے پہلے جس کی حالت کامل اور نیک ہو جائے گی وہ متقی ہے اگر اس سے پہلے کوئی گناہ اس نے کیا ہے تو وہ معاف کر دیا جائے گا۔حدیث شفاعت بھی اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ کامل مومن کے لئےدوزخ نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں سے اسّی۸۰ ہزارآدمی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے یعنی سوال و جواب سے جو کوفت ہوتی ہے وہ بھی انہیں نہیں ہوگی وہ بغیر سوال و جواب کے سیدھے جنت میں چلے جائیں گے ظاہر ہے کہ ان سے بھی زیادہ وہ لوگ ہوں گے جو سوال و جواب کے بعد جنت میں جائیں گے۔پس لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ کے یہ معنے کرنا کہ ہر جنّ و انس دوزخ میں سے ہو کر جائے گا بالکل لغو ہیں۔مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ دوزخ مومن کے لئے جنت بن جائے گی۔وہاں باغات ہوں گے پھول ہوں گے۔لیکن اوّل تو یہ ایک تمسخر بن جاتا ہے کہ انبیاء ، صلحاء کو دوزخ میں ڈالا جائے لیکن بنا دیا جائے اسے جنت دوسرے اس طرح مومنوں کو یہ کوفت تو ہوگی کہ خدا تعالیٰ ان سے ناراض ہے اس لئے وہ انہیں دوزخ میں بھیج رہا ہے۔بعد میں بے شک انہیں پتہ لگ جائے کہ یہ دوزخ نہیں ہے جنت ہے۔یہاں تو باغات ہیں پھول کھلے ہیں آخر یہ عذاب انہیںکس قصور کی بنا پر دیا جائے گا؟ اور پھر یہ خیال کر لینا کہ نعوذباللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام