تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 546
الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ میں تما م جنّوں اور انسانوں کو جہنم میں داخل کروں گا اس آیت سے لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں شاید اللہ تعالیٰ نے یہ قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ تمام جنّ و انس جہنم میں جائیں گے۔حالانکہ دوسری آیات سے پتہ چلتا ہےکہ ان کا یہ خیال غلط ہے اللہ تعالیٰ سورۂ رحمٰن میں فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرَّحْـمٰن:۴۷)۔جو شخص اپنے اندر خوف پیدا کر لیتا ہے اسے دو جنتیں ملیں گی۔اس جہان میں بھی اسے جنت ملے گی اور اگلے جہان میں بھی اسےجنت ملے گی اب جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اس کے لئے اس جہان میں بھی جنت ہے اور اگلے جہان میں بھی جنت ہے اسے دوزخ کہاں ملے گی۔دو ہی زمانےہیں۔یہ جہان ہے یا اگلا جہان ہے۔اسے یہاں بھی جنت مل گئی اور اگلے جہان میں بھی جنت ملے گی تو دوزخ کہاں ملی۔پس معلوم ہوا کہ یہ گروہ جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر یہ گروہ دوزخ میں نہیں جائے گا تو لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ کےجو یہ معنے کئے جاتے ہیں کہ میں جنّ و انس میں سے ہر ایک کو جہنم میں ڈالوں گا کیسے صحیح ہو سکتے ہیں۔معلوم ہوا کہ یہ معنے ٹھیک نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔(الفجر:۲۸تا۳۱)کہ اے نفس مطمئنہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہےاور وہ تجھ سے راضی ہے۔اس آیت میں لفظ اِرْجِعِيْ یا تو اس جہان کے متعلق ہے یا موت سے بعد کی زندگی کے متعلق ہے۔ان دونوں کے علاوہ اس کے کوئی اور معنے نہیں لئے جا سکتے جب خدا تعالیٰ کسی شخص سے راضی ہو گیا ہو اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گیا ہوتو پھر وہ دوزخ میں کیسے جا سکتا ہے؟اور اگر اس سے مراد موت کے بعد کی زندگی ہے تب بھی یہ آیت بتاتی ہے کہ مرنے کےبعد فوراً اسے کہا جائے گا فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔جاؤ میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور میری جنت میں داخل ہو جاؤ اگر یہ ٹھیک ہے تو پھر دوزخ میں جانے کا کون سا وقت آئے گا معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے کہ ہر ایک روح جہنم میں جائے گی۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ قِيْلَ لِلَّذِيْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَيْرًا١ؕ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِيْنَ۔جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ يَجْزِي اللّٰهُ الْمُتَّقِيْنَ۔الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ١ۙ يَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَيْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔(النحل :۳۱تا۳۳)یعنی متقیوں سے کہا جائے گا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے یعنی وہ کیا پُر حکمت کلام ہے اس پر وہ کہیں گے کہ جو کچھ اس نے نازل کیا ہے ٹھیک