تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 545

کہ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے جنّ و انس کو پید اکیا گیا ہے۔اس کے سوا ان کی پیدائش کا اور کوئی مقصد نہیں۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ سےمراد یہ نہیں ہوسکتا کہ میں نے جنّ و انس کو اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ میری مخلوق بن جائیں کیونکہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا تو وہ اسی وقت مخلوق ہو گئے دوبارہ مخلوق بننے کا سوال ہی نہیں رہتا۔پس اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ انسان کواس لئے پید اکیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا صحیح عبد بن جائے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کوجذب کرلے اور اس کا سچا، مخلص اور مومن بندہ بن جائے یہی قضائے الٰہی ہے۔اور اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ میں اسی طرف اشارہ ہے کہ جو مذکورہ بالا قضائے الٰہی کا انکار کرے وہ کبھی نیک نہیں ہو سکتا اور اس کے افعال ضرور گندے ہوںگے۔پس جو شخص قضائے الٰہی کو سمجھ لیتا ہے اور جان لیتا ہے کہ وہ صرف اس لئے پیدا کیا گیا ہے تا خدا تعالیٰ کا مخلص اور مومن بندہ بن جائے اور ا سے اس بات پر یقین ہو تو وہ خود اپنی اصلاح کر لے گا۔کیونکہ وہ سمجھ لے گا کہ میں یقیناً بدیوں پر غالب آسکتا ہوں کیونکہ میری پیدائش کی غرض ہی نیک ہونا ہے۔گناہ درحقیقت بڑھتا ہی مایوسی سے ہے جو لوگ مایوس ہو جاتے ہیں ان میں مقابلہ کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ شیطان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیںدنیا میں ہزاروں ہزار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کوئی رستہ تجویز نہیں کیا۔اور ا س لئے وہ مایوس ہوجاتےہیں۔ایسے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے ہماری نجات کا کوئی رستہ تجویز ہی نہیں کیاتو پھر بدی کا مقابلہ کرنے سے کیا فائدہ۔ایسے لوگ اپنی بدیوں کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی راہ نجات نہیں۔اس لئے ان کےاندر نیکی کے لئے خاص جدو جہد پیدا نہیں ہو تی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ (السجدۃ:۲۸) یعنی اگر ہم اپنی مرضی سے کام لیں تو ہر شخص کو ہدایت دے دیں۔یعنی جب بھی اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کو استعمال کرے گا اس کی مشیت یہی ہو گی کہ سب جِنّ و انس اس کے مخلص اور مومن بندے بن جائیں اور وہ ہدایت پا جائیں۔اس کی مشیت یہ نہیں ہو گی کہ وہ گمراہ ہو جائیں اور ہدایت سے ہٹ جائیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ چور اور ڈاکو بن جائے بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کا عبد بن جائے اس کا بندہ بن جائے۔اس بات کی تردید کہ ہر ایک روح جہنم میں جائے گی لیکن خدا تعالیٰ ساتھ ہی یہ بھی فرماتا ہے کہ میں نے ایک اور قانون بھی مقرر کر دیا ہے اور وہ بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا او