تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 541
حضرت صفیہ ؓ نے ڈنڈا اٹھا یا اور اس کے سر پر مارا، ڈنڈا لگتے ہی وہ زمین پر گرگیا اور بے ہوش ہو گیا مگر گرتے وقت کپڑا ادھر ادھر ہوجانے کی وجہ سے وہ ننگا ہو گیا۔انہوں نے شرم کے مارے اپنا منہ ایک طرف کر لیا اور حسان سے کہا اب تو یہ بےہوش پڑا ہے اگر پہلے نہیں مارا تو اب ہی ماردو۔حسان ؓ کہنے لگے نہ بی بی ابھی اس کے اندر جان معلوم ہوتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ مجھ پر حملہ کر دے تم خود ہی مارو۔چنانچہ حضرت صفیہ ؓ نے منہ پر کپڑا ڈال لیا اور لٹھ مار کر اسے مار دیا (البدایۃ والنـھایۃ سنۃ ۵ ھـ غزوۃ خندق)۔اب یہ تو نہیں کہ حضرت حسان ؓ نعوذ باللہ بے ایمان تھے، وہ بڑے مخلص صحابی تھے مگر لڑائی ان کی طبیعت کے خلاف تھی۔تو جو چیزیں طبیعت کے مطابق ہو تی ہیں ان کا کرنا بڑا آسان ہو تا ہے اور جو چیزیں طبیعت یامزاج کے خلاف ہو تی ہیں ان کا کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے۔ایسی کمزوریوں کا علاج بھی صرف اور صرف عادت ہے۔مثلاً اگر سو نیکیاں ہیں جن کا بجا لانا ضروری ہے اور سو بدیاں ہیں جن سے بچنا ضروری ہے اور ان میں سے پچاس نیکیاں اور پچاس بدیاں کسی کی طبیعت کے مطابق ہیں تو پچاس نیکیاں اور پچاس بدیاں ایسی ہوں گی جو طبیعت کے مطابق نہ ہو نے کے سبب سے بہت زیادہ جدو جہد کی محتاج ہو ں گی۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ جب تک طبیعت جیسی کوئی طاقتور چیز مدد نہ کرے تب تک انسان بدیوں سے رک نہیں سکتا۔بہر حال کوئی حربہ ایسا چاہیے تھا جو طبیعت کے برابر وزن رکھتا جس سے اس موقع پر مدد لی جاتی اور وہ حربہ عادت کا ہے۔جب انسان اس حربہ کو اختیار کر لیتا ہے تو ان نیکیوں کا حصول اور بدیوں سے اجتناب بھی اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے۔جو اس کی طبیعت کے مطابق نہیں ہوتیں۔لوگوں میں یہ بحث چلی آتی ہے کہ طبیعت کا اثر قوی ہوتا ہے یا عادت کا اور اس بارہ میں بعض عجیب عجیب قصے مشہور ہیں۔کہتے ہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ اور اس کی بیوی میں ایک دفعہ اس پر جھگڑا شروع ہو گیا کہ تخم تاثیر یا صحبت کا اثر ان دونوں میں سے زیادہ طاقت کس میں ہے۔تخم تاثیر سے مراد طبیعت ہے اور صحبت کے اثر سے مراد عادت ہے۔بیوی کہتی کہ طبیعت کا اثر زیادہ ہو تا ہے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کہتے کہ صحبت اور عادت کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔آخر اس کے فیصلہ کے لئے انہوں نے ایک لڑکا پالا وہ میراثیو ں کا لڑکا تھا۔سات آٹھ سال تک اسے سکول میں تعلیم دلائی گئی اور اس کے ماحول کو بالکل بدل دیا گیا۔ایک دن انہوں نے یہ معلوم کرنا چا ہا کہ طبعی میلان قوی ہے یا عادت۔چنانچہ انہوں نے اس دن برتن میں روٹی رکھنے کی بجائے ایک ٹوٹی پھوٹی جو تی لپیٹ کر رکھ دی۔لڑکا سکول سے واپس آیا اور ر وٹی کھانے کے لئے اس نے برتن پر سے کپڑا اٹھایا تو بجائے روٹی کے اس میں سے جوتی نکل آئی یہ دیکھ کر وہ بےتحاشا رونے لگ گیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بیوی سے کہا کہ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ صحبت کا اثر زیادہ ہو تا ہے