تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 540

ہو تا ہے اور بعض پر نہیں چنانچہ اپنے لوگوں میں ہی غور کر کے دیکھ لو۔ایک شخص جھوٹ فوراًبو ل دے گا لیکن خیانت نہیں کرے گا۔ایک اور شخص مال اڑانے سے دریغ نہیں کرے گا مگر سچ بولے گا۔کوئی شخص گالی نہیں دے گا مگر تھپڑ رسید کردے گا۔دوسرا مارے گا نہیں مگر اٹھتے بیٹھتے گالیاں دیتا چلا جائے گا۔ایک اور آدمی ان عیوب میں مبتلا ہو تا ہے جو نرمی سے پیدا ہوتے ہیں کوئی ان عیوب میں مبتلا ہوتا ہے جو سختی سے پیدا ہوتے ہیں۔اب دیکھو یہ دونوں فطرتیں ہیںاوردونوں مختلف مواقع پر مختلف کام کرتی ہیں۔طاقت والا آدمی طاقت کے کام پر تو لگ جائے گا مگر جہاں دبنے کامعاملہ آئے وہاں وہ دب نہیں سکے گا اور نرم طبیعت آدمی نرمی کے کام تو کرے گا مگر مقابلہ اور طاقت والا کام نہیں کرسکے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان امور کو خوب سمجھتے تھے۔اور آپ ہر شخص کی فطرت کے مطابق کام لیا کرتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر عرب کا ایک سردار آیا جس پر قربانیوں کا بہت اثر ہو تا تھا۔آپ کو اس کی آمد کاعلم ہوا تو آپ نے فرمایا ساری قربانیاں اس کے راستہ میں کھڑی کر دو۔جب تمام قربانیاں اس کے سامنے کھڑی کی گئیں تو اس نے حیران ہو کر پو چھا کہ یہ جانور کیسے ہیں ؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا کہ یہ قربانیاں ہیں اس بات کا اس سردار پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے واپس جا کر اپنی قوم سے کہا کہ انہیں مکہ میں آنے کی اجازت دینی چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ ان کی قربانیاں ضائع چلی جائیں۔یوں وہ لڑاکا تھا مگر قربانیوں کو دیکھ کر اس کا دل برداشت نہ کر سکا کہ خدا کے نام کی قربانی رائیگاں چلی جائے۔اس بارہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ اگر کوئی شخص تجھےیہ کہے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو تُو اس کی بات مان لے لیکن اگر کوئی شخص تجھے یہ کہے کہ کسی کی فطرت بدل گئی ہے توتُو اس کی بات نہ مانیو۔اور یہ بات صحیح ہے۔بعض چیزیں آسان ہو جاتی ہیں جو فطرت کے مطابق ہو تی ہیں اور بعض چیزیں مشکل ہو جاتی ہیں جو فطرت کے خلاف ہو تی ہیں۔اپنے ارد گرد رہنے والوں کو ہی دیکھ لو بعض لوگ چندے خوب دیں گے لیکن جب نماز کا وقت آئے گا تو کھسک جائیں گے۔بعض اور لوگ تمہیں اس قسم کے نظر آئیں گے جو نمازیں بر وقت ادا کر لیں گے لیکن جیب سے پیسہ نکالنے کا وقت آئے تو رونے لگ جائیں گے۔پھر ایک اور آدمی اس قسم کا ہوتا ہے کہ اگر اس سے چندہ مانگو تو وہ اپنا گھر بار لٹانے کے لئے تیار ہو جائے گا۔وطن سے بے وطن ہو نے پرآمادہ ہو جائے گا۔لیکن اگر اسے لڑائی میں جان دینے کے لئے کہو تو گھبرائے گا۔حسان بن ثابت ؓ اور ابوھریرۃؓدونوں ایسے تھے جو کسی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے۔غزوہ احزاب کے موقع پر ایک یہودی جاسوس عورتوںکی طرف آگیا۔حسان بن ثابتؓ اس وقت پہرہ پر مقرر تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن حضرت صفیہ ؓ نے کہا حسان اسے مار ڈالو یہ جاسوس معلوم ہوتا ہے۔حسان کہنے لگے تم مارنا چا ہو تو مار دو مجھ سے تو مارا نہیں جاسکتا۔