تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 50

دل میں ڈال دی جاتی ہے مگر اس کے بعد کہتے ہیں وَاِمَّا بِاِلْھَامٍ نَـحْوَ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ یا یہ کلام الہام کے ذریعہ نازل ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ ہم نے اُمّ موسٰی کی طرف وحی کی۔جب اللہ تعالیٰ کے کلام کی ایک وہ قسم بھی آچکی جس میں جبریل کا نزول ہوتا ہے، وہ قسم بھی آچکی ہے جس میں آواز سنائی دیتی ہے، وہ قسم بھی آچکی جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بات دل میں ڈال دی جاتی ہے تو پھر الہام کون سا باقی رہا جس کا وہ علیحدہ ذکر کررہے ہیں اور جس کی مثال میں انہوں نے اُمّ موسیٰ کا واقعہ پیش کیا ہے۔یہ صاف بات ہے کہ جبریل کے ذریعہ جو کلام آتا ہے وہ بھی الہام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر آواز آتی ہے تو وہ بھی الہام ہوتا ہے اور یہی الہام تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو ہوا مگر انہوں نے اِمَّا کہہ کر ایک اور شق قائم کردی ہے کہ وحی کی ایک قسم الہام بھی ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام ہوا کہ اَنْ اَرْضِعِيْهِ حالانکہ یہ بات ان کی پہلی بیان کردہ قسموں میں ہی شامل ہے کوئی علیحدہ بات نہیں جسے زائد طور پر اِمَّا کہہ کر بیان کرنے کی ضرورت ہوتی۔اس موقعہ پر یا تو انہیں یہ بتانا چاہیے تھا کہ وحی اور چیز ہوتی ہے اور الہام اور چیز۔اس لئے میں الہام کا علیحدہ ذکر کررہا ہوں اور الہام اور وحی میں یہ فرق ہوتا ہے مگر انہوں نے کوئی فرق نہیں کیا اور بلاوجہ ایک علیحدہ شق اِمَّا کہہ کر قائم کردی حالانکہ یہ پہلے مضمون سے کوئی مغائر مضمون نہیں ہے۔اگر کہا جائے کہ الہام کے معنے ان کے نزدیک ’’در دل انداختن‘‘ کے ہوتے ہیں یعنی وہ بات جو دل میں ڈال دی جائے اسے الہام کہتے ہیں اور جو کلام الفاظ کی شکل میں نازل ہو اسے وحی کہتے ہیں۔اسی لئے انہوںنے الہام کا علیحدہ ذکر کیاہے تو یہ بات بھی غلط ہے۔کیونکہ وہ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وَاِمَّا بِاِلْقَاءٍ فِی الرَّوْعِ کَمَا ذَکَرَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنَّ رُوْحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِیْ رَوْعِیْ کہ وحی بعض دفعہ القاء فی الروع کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روح القدس نے فلاں بات میرے دل میں ڈال دی ہے۔جب اِلْقَاء فِی الرَّوْعِ کا پہلے ذکر آچکا ہے تو اس کے بعد اِمَّا بِاِلْھَامٍ نَـحْوَ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ کہنا بتاتا ہے کہ ان کا یہ منشا نہیں ہوسکتا کہ الہام سے مراد در دل انداختن ہے کیونکہ یہ مضمون پہلے آچکا ہے۔میرے نزدیک تو انہوں نے بھول کر دوبارہ اِمَّا بِاِلْھَامٍ نَـحْوَ وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ لکھ دیا ہے۔چنانچہ مجمع البحار والوں نے کہا ہے کہ مفردات راغب کی یہ بات غلط ہے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى وَحْیُ اِعْلَامٍ لَا اِلْہَامٍ لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی طرف یہ وحی جو نازل ہوئی تھی کہ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ ہم اسے الہام نہیں کہہ سکتے کیونکہ الہام تو در دل انداختن کو کہتے ہیں اور