تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 534

آپؐکے اس قول کے مطابق ہمیں دنیا میں ہزاروں مثالیں ملتی ہیں اور یہ فوری تغیّر بھی کسی غیر طبعی بات کا نتیجہ نہیں ہو سکتا۔یقیناً اس کے پیچھے ایک طبعی مظاہرہ ہو تا ہے اور یہ اسی طاقت کا نتیجہ ہو تا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہرانسان میں پیدا کی ہے اور جو اسے کھینچ کر کہیں سے کہیں لے جاتی ہے۔ایک بزرگ کہتے ہیں کہ ایک شہر میں ایک بہت بڑا رئیس تھا جو ہر وقت ناچ گانے اور شراب میں مشغول رہتا تھا اور اس کا دعویٰ تھا کہ چونکہ میرے بادشاہ اور حکام سے تعلقات ہیں اس لئے کوئی شخص مجھے روکنے کی طاقت نہیں رکھتا، ہم نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ ہمیشہ کہتا کہ تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو مجھے روکنے کی تم میں ہمت نہیں کیونکہ بالا حُکّام اور سرکاری افسران سے میرے خاص تعلقات ہیں۔چونکہ رات اور دن ناچ گانے کا شغل برابر جاری رہتا تھا اور عبادت میں خرابی واقعہ ہو تی تھی اس لئے تنگ آکر میں نے وہ شہر ہی چھوڑ دیا۔ایک دفعہ میں حج کے لئے گیا تو میں نے کیا دیکھا کہ وہی رئیس حج بیت اللہ کے لئے آیا ہوا ہے۔اسے دیکھ کر میرے ہو ش اڑ گئے کہ ایسا بد معاش اور بے ایمان بھی حج کے لئے آنکلا ہے۔میں نے آگے بڑھ کر اسے مصافہ کیا اور کہا یہ کیا بات ہے کہ آج تم حج کے لئے آئے ہوئے ہو۔تمہاری خاطر تو ہم نے شہر ہی چھوڑ دیا تھا۔تمہاری وجہ سے ہماری نمازیں خراب ہوئیں۔تہجد پڑھنےمیں مزہ نہ آیا۔دعاؤں کی طرف توجہ نہ ہو سکی کیونکہ ہر وقت گانے بجانے کاشور رہتا تھا آخر میں نے تنگ آکروہ شہر ہی چھوڑ دیا مگر جس شخص کو چھوڑ کر میںباہر نکلا تھا آ ج پھر وہ یہاں موجود ہے۔میں نے ہر ممکن نصیحت جو میرے امکان میں تھی تمہیں کی۔تمہیں قرآن سنایا تم پر اثر نہ ہو ا۔حدیثیں سنائیں تم پر اثر نہ ہوا مگر آج یہ کیا معاملہ ہے کہ تم حج کے لئے یہاں موجود ہو ؟ اس نے کہا تم جو کچھ کہتے ہو درست ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کا ایک وقت مقدّر ہو تا ہے ایک دن عصر کے بعد شراب کا دور چل رہا تھا۔صراحیوں پر صراحیاں لنڈھائی جا رہی تھیں۔دوست اور ندیم بیٹھے تھے۔گانا بجانا ہو رہا تھا اور میں چھت پر منڈیر کے قریب بیٹھا تھا کہ گلی میںسے کوئی آدمی گذرا جو یہ آیت پڑھتا جا رہا تھا کہ اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ (الحدید:۱۷) کیا مومنوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ خدا کے خوف سے وہ گناہ کو چھوڑ دیں اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جائیں یہ آواز میرے کان میں پڑی تو یک دم میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔میں نے صراحیاں توڑدیں اور اپنے دوستوں سے کہا کہ تم اسی وقت میرے پاس سے چلے جاؤ۔اس وقت میرے دل پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ مجھے یہ معلوم نہیں ہو تا تھا کہ کوئی مسافر یہ آیت پڑھ رہا ہے بلکہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے جھانک کر کہہ رہا ہے کہ کیا تم نے گناہوں سے باز نہیں آنا۔اور میں نے سچی توبہ کی اور اس کے نتیجہ میں تم مجھے آج یہاں دیکھ رہے ہو(تذکرۃ الاولیاء صفحہ ۴۹ ، ۵۰) غرض ضمیر