تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 530
چہارم۔طہارت باطنی رکھنے والے پنجم۔شرک سے پاک عربی زبان میں صفائی اور پاکیزگی کے معنے ادا کرنے کے لئے سات الفاظ اور ان کے استعمال میں فرق عربی زبان میں پاکیزگی کے مفہوم کے لیے جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں وہ یہ ہیں نَظَا فَۃٌ۔طَھَارَۃٌ۔طِیْبَۃٌ۔نَقَاءٌ۔زَکَاءٌ۔صَفَاءٌ۔نَزَاھَۃٌ ان میں سے طہارت جسمی اور نفسی ہوتی ہے یعنی نجس کے مقابل پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔قرآن کریم میں پانی کو طہور کہا گیا ہے لیکن اس کے مقابل میں مٹی کو طیّب کہا گیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًا( الفرقان:۴۹) لیکن مٹی کے متعلق فرماتا ہے کہ فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا ( المائدۃ:۷) اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ تو فرمایا ہے کہ طَھِّرْ بَیْتِیَ ( الحج:۲۷) لیکن عربی محاورہ کے مطابق یہ نہیں کہا جائے گاکہ طَیِّبْ بَیْتِیَ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) طہارت میں خارجی نجاست کے دُور کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے اسی طرح تَطْہِیْـر کے معنے خارجی نجاست خواہ جسمانی ہو یا روحانی اس کو دُور کرنے کے بھی ہوتے ہیں لیکن طِیْبَۃٌ کا لفظ ذاتی جوہر کی طرف اشارہ کرتا ہے خارجی نجاست کی طرف نہیں۔چنانچہ طَھِّرْ کے معنے تو صاف کرنے کے ہوتے ہیں لیکن طَیِّبْ کالفظ جب ایک عرب بولے گا تو خارجی نجاست کو دُور کرنے کے معنوں میں وہ اسے کبھی استعمال نہیں کرے گا بلکہ اس کے معنے مزیدار یا اچھا بنانے یا مزیدار یا اچھا پانے کے ہوتے ہیں چنانچہ طَیَّبَ الشَّیْءَ کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ اُس نے نجاست ظاہری دُور کر دی بلکہ طیّب ہمیشہ مزیدار یا اچھا بنانے یا مزیدار یا اچھا پانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے مثلاً طَیَّبَ اللَّحْمَ کے معنے ہوتے ہیں اس نے گوشت اچھا پکایا اور اسے مزیدار بنایا۔یا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اُس نے گوشت کو اچھا پایا کھانا کھایا تو کہا کہ کھانا بڑا اچھا پکایا گیا تھا یا خوب مزیدار تھا۔اگر زمین پر بوٹی گر جائے تو ہم یہ تو کہیں گے کہ طَھِّرْ اس بوٹی کو صاف کرو لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ طَیِّبْ۔لیکن اچھا پکانے یا اچھا پانے کے مفہوم کو جب ہم ادا کرنا چاہیں گے تو اس کے لیے طَھِّرْ کا لفظ استعمال نہیں کریں گے۔اسی طرح طَیِّبْ کے معنے امن یا سکون دینے کے بھی ہوتے ہیں یعنی اصلاحِ نفس کے۔پس طَھَارَۃٌ اور طِیْبَۃٌ میں یہ فرق ہے کہ طہارت نجاست خارجی سے حفاظت پر دلالت کرتی ہے۔مگر طیبہ صرف ذاتی خوبی پر دلالت کرتی ہے جیسے مزا، خوبصورتی، مٹھاس یا کسی چیز کا فائدہ بخش ہونا۔ایک میٹھی اور مزیدار شے کو ہم طیّب کہیں گے طاہر نہیں کہیں گے یامثلاً کوئی چیز خوبصورت ہو یا مفید ہو تو ہم اس کو طیّب تو کہیں گے مگر طاہر