تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 522

مل کر ایک مکمل سکیم بن جاتی ہےجو جماعت کے لئے نہایت مفید اور بابرکت ثابت ہو تی ہے۔غرض جس طرح فرد اپنی ضرورتوں کے متعلق سوچ کر سکیم بنا لیتا ہے اسی طرح اگر اس کا دماغ قومی ضرورتوں کی طرف منتقل کر دیا جائے تو ہر فرد قومی ضرورتوں کے متعلق سوچنے لگ جائے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہر شخص اس کی قابلیت رکھتا ہے۔جنگل میں رہنے والاہو یا پہاڑ پر رہنے والا، گاؤں میں رہنے والا ہو یا شہر میں رہنے والا۔ہر شخص پاکستان کے مستقبل کے متعلق بھی سوچ سکتا ہے۔فلسطین کے مستقبل کے متعلق بھی سوچ سکتا ہے۔اسی طرح دنیا کے ہر سیاسی مسئلہ کے متعلق سوچ سکتا ہے۔نقص یہ ہے کہ اسے یہ احساس نہیں کرایا گیا کہ تم پر قوم کے متعلق ذمہ واری ہے اس لئے وہ یہ تو کرتا ہے کہ کبھی اپنی بیوی کے متعلق سوچتا ہے کبھی اپنی لڑکی کے متعلق سوچتا ہے۔کبھی اپنے لڑکوں کے متعلق سوچتا ہے، کبھی اپنے رشتہ داروں کے متعلق سوچتا ہے مگر وہ اپنے ملک اور اپنی قوم اور اپنے مذہب کے متعلق کبھی نہیں سوچتا۔اس لئے نہیں کہ وہ سوچ نہیں سکتا۔بلکہ اس لئے کہ وہ اس کا عادی نہیں۔اگر قومی جذبہ پیدا ہو جائے تو ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی کچھ نہ کچھ سکیمیں سوچنے لگ جائے گا اور اگر قومی جذبہ پیدا نہیں ہو گا تو عام لوگ تو الگ رہے پڑھے لکھے بھی اپنی قوم سے غافل رہیں گے۔نہ انہیں اپنی قوم کے نقائص کا پتہ ہو گا نہ اس کے علاج کا فکر ہو گا اور سارا نظام ڈھیلا ہو جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ اس نکتہ کو سمجھا نہیں گیا کہ جس طرح فرد کا دماغ ہے اسی طرح قوم کا بھی دماغ ہے۔قوم کا دماغ ایک غیر مادی او ر روحانی چیز ہے مگر اس سے زیادہ یقینی اور پختہ چیز اور کوئی نہیں جب کسی قوم کے افراد میں جذبہ ملت پیدا ہو جاتا ہے تو تمام افراد قومی ضرورتوں کے متعلق سوچنے لگ جاتے ہیں اورقومی ضرورتوں کے متعلق سوچنے اور غور و فکر کرنے کے نتیجہ میں قومی روح پیدا ہو جاتی ہے اور قومی روح سے قومی دماغ پیدا ہو تا ہے جو نظر تو نہیں آتا مگر وہ ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔جس قوم میں قومی دماغ پیدا ہو جاتا ہے وہ باوجود افراد کے علم کی کمی کے جیت جاتی ہےاور جس قوم میں قومی دماغ پیدا نہیںہو تا وہ باو جود افراد کی علمیت کے ہار جاتی ہے۔جس طرح فرد حکومت کا قائم مقام نہیں ہو سکتا اسی طرح فردی دماغ قومی دماغ کا قائم مقام نہیں ہو سکتا۔گذشتہ دنوں میں ملک میں جو فساد ہوا اس میں انفرادی طور پر کچھ مسلمانوں نے بھی اپنے بچاؤ کی تدبیریں کی تھیں مگر قومی طور پر انہوں نے کوئی تدبیر نہیں کی تھی۔بعض شہروں نے بے شک بعض تدابیر اختیار کی تھیں جیسے امرتسر ہے مگر شہر بھی ایک ملک کے مقابلہ میں فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ایسی بری طرح پٹے کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔سکھ مشرقی پنجاب میں بائیس۲۲ فیصدی تھے اور مسلمان چوالیس۴۴ فیصدی مگر