تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 518

بدلہ نہ لو۔اصل مقصد تو نیکی کا پھیلانا ہے اگر بدلہ لینے سے نیکی پھیلتی ہو تو بدلہ لو۔اگر بدلہ نہ لینے سے نیکی پھیلتی ہو تو بدلہ نہ لو۔یہ ہے اسلام کی تعلیم۔عربوں میں تعصب بہت تھا۔یعنی قومی خدمت اور قوم کے لئے قربانی کا احساس ان میں بہت زیادہ تھا۔لیکن بعض دفعہ غلط طریق پر چل کر وہ اسے انتہا تک لے جاتے تھے اور یہ فعل نیکی نہیں بلکہ بدی بن جاتا تھا۔چنانچہ بعض دفعہ غریب یا مسکین کی حمایت کے نام سے انہوں نے جنگیں کی ہیں جو سو سو سال تک بھی چلی گئی ہیں۔مثلاً ایک عرب کے کھیت میں ایک کتیانے بچے دے دیئے۔کسی عرب کا اونٹ کھل کا اس کھیت میں چلاگیا اور اس کے پاؤں تلے ایک بچہ کتیا کا مر گیا۔کھیت والے نے سمجھا کہ کتیا نے میرے کھیت میں پناہ لی تھی اس کا بچہ مارا گیا ہے اس لئے مجھے بدلہ لینا چاہیے اس نے اس اونٹ کو مار دیا جس کا اونٹ تھا وہ ایک اور عرب کا مہمان تھا اس عرب نے کہا کہ چونکہ میرے مہمان کا اونٹ مارا گیا ہے اس لئے اس کا بدلہ لینا میرا فرض ہے اس لئے اس اونٹ مارنے والے عرب کو مار دیا۔اس مقتول کی قوم نے اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لئے اجتماع کیا جس پر قاتل کی قوم نے اپنے بھائی کی مدد کا فیصلہ کیا اور باہم جنگ شروع ہو گئی جس میں آہستہ آہستہ دوسری اقوام بھی شامل ہوتی گئیں اور سارے عرب میں سو سال تک جنگ ہو تی رہی( الکامل فی التاریخ ذکر مقتل کلیب و الایام بین بکر و تغلب)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے عرب پر حکومت عطا فرمائی تو اس وقت تک ہزاروں انسانوں کا خون اسی قسم کے لغو بدلوں میں لیا جا چکا تھا اور سینکڑوں انسان ایسے تھے جن کے خون کا بدلہ ابھی لیا جانے والا تھا۔اس لئے اس فتنہ کو ختم کرنے کے لئے آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر ایک وعظ فرمایا جس میں اور باتوں کے علاوہ آپ نے ایک یہ بات بھی بیان فرمائی کہ دیکھو عرب میں بعض قبائل کے بعض قبائل پر خون کے حق قائم ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے آدمی مار ڈالے تھے۔مگر کبھی نہ کبھی یہ چیز ختم ہونی چاہیے ورنہ عرب کی طاقت بالکل ٹوٹ جائے گی اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ہر خون کا بدلہ لینے کی حکومت ذمہ وار ہو گی افراد کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ خود بخود کسی قتل کا بدلہ لیں۔باقی رہے پچھلے خون سو آج میں ان سارے خونوں کو معاف کرتا ہوں اب کسی کا کوئی حق نہیں کہ وہ ان میں سے کسی خون کا بدلہ لے اس پر سب لوگ تسلی پا گئے اور امن قائم ہو گیا۔ورنہ اگر وہ خون باقی رہتے تو اسلامی زمانہ میں بھی خونریزی کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قومی خدمت کے غلط جذبہ کو ایک نیک رو سے بدل دیا اور بتایا کہ یہ قومی خدمت نہیں قوم کی تباہی کی صورت ہے اور اس طرح قومی خدمت کا صحیح جذبہ پیدا کر کے عرب کو ایک بلاءِ عظیم سے نجات دلوادی۔میں نے اس سے پہلے دین کے معنوں میں ضبط کا ذکر کیا تھا۔ضبط اور چیز ہے اور خدمتِ ملی کا احساس اور چیز