تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 512

روکنے والی ہو بلکہ در حقیقت ہر عبادت الٰہیہ بدی سے روکتی ہے۔چاہے ہندو کی ہو، عیسائی کی ہو،یہودی کی ہو، زرتشتی کی ہو۔مثلاً عیسائی اللہ تعالیٰ سے دعا کر تا ہے تو کیا کہتا ہے یہی کہتا ہےکہ اے خدا میری آج کی روٹی مجھے دے اے خدا تیری بادشاہت جیسی آسمان پر ہے ویسی ہی زمین پر بھی آئے(متی باب ۶ آیت ۱۰،۱۱)۔یہ چیز انسان کے دل میں آخر خشیت تو پیدا کر دیتی ہے۔ایک جابر بادشاہ جو ظالمانہ حکومت کر رہا ہو تا ہے اگر کھڑے ہو کر دن میں ایک دفعہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتا ہے کہ اے خدا میری آج کی رو ٹی مجھے دے تو اس کے دل میں بھی کچھ نہ کچھ انکسار پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں بھی کسی کا محتاج ہوں۔اس کے بعد یہی خیال اسے نیکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔غرض عبادت الٰہیہ اپنی ذات میں بڑے بڑے گناہوں کو دور کرنے والی ہو تی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى۔عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ نماز انسان کو فحشاء اور منکر سے بچاتی ہے اسی مضمون کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔مجھے بتا تو سہی کہ وہ کون ہے جو عبادت الٰہیہ کا منکر ہے۔اگر ہے تو تُو دیکھے گا کہ اس میں یہ یہ عیوب ہو ں گے کہ وہ یتیموں پر ظلم کرے گا، مسکینوں کے حقوق ادا نہیں کرے گااور مداہنت اور منافقت کا مادہ اس میں پایا جائے گا۔وہاں فرمایا تھا نماز بدیوں اور بےحیائیوں سے روکتی ہے اور یہاں فرماتا ہے کہ جو نماز کا منکر ہے وہ بدی کامرتکب ہو گا گو یا وہی مفہوم یہاں دوسرے الفاظ میں ادا کر دیا گیا ہے۔نیکی کی صحیح تعریف عبادت الٰہیہ کیا چیز ہے اور نیکی کی صحیح تعریف کیا ہے اس بارہ میں یورپ میں بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔یورپ کے فلاسفروں نے اس موضوع پر دو دو، تین تین، چار چار جلدوں میں کتابیں لکھی ہیں اوربڑی بڑی لمبی بحثیں کرنے کے بعد انہوںنے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ نیکی وہ ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔مگر ہر تعریف جو انہوں نے کی ہے اس پر کوئی نہ کوئی اعتراض پڑتا ہے۔مثلاً یہی تعریف لے لو کہ نیکی وہ کام ہے جس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔اگر اس کو درست سمجھ لیا جائے تو کیا اگر اکثر لوگ یہ فیصلہ کرلیں کہ ہم قلیل التعداد لوگوں کولوٹ لیں گے تو ان کا یہ فیصلہ جائز ہو گا۔اس تعریف کے رو سے یقیناً اکثریت کی لوٹ مار جائز ہوگی مگر در حقیقت جائز نہیں۔اسی طرح اور جس قدر تعریفیں کی جاتی ہیں سب کی سب غلط ہیں۔صرف ایک تعریف ہے جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیکی کی صحیح تعریف ہے اور وہی اکیلی تعریف ہے جس کے بغیر کوئی تعریف نہیں اور وہ تعریف جس کا قرآن کریم سے بھی پتہ چلتا ہے یہ ہے کہ نیکی کہتے ہیں خدا تعالیٰ کی تصویر کا انعکاس اپنے اندر لے لینے کو۔تَعبُّد کے معنے ہو تے ہیں نشان لے لینا۔پس عبادت الٰہیہ کے معنے ہوئے خدا تعالیٰ کے عکس اور اس کی تصویر کو اپنے اندر پیدا کر لینا۔یہی ایک صحیح ترین تعریف ہے اور اس کے سوا اور کوئی تعریف نہیں۔جو شخص خدا تعالیٰ کو