تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 511

خواہ وہ اپنے مذہب پر کس قدر ہی ناقص ایمان رکھتی ہو بہرحال انجیل کی تعلیم اس پر ضرور کچھ نہ کچھ ضبط رکھے گی۔ایک یہودی عورت کو یہودی مذہب کی تعلیم بعض حدود کے اندر مقید رکھے گی۔ایک ہندو عورت کو ہندومذہب کی تعلیم اباحت اور بے دینی کی طرف جانے سے روکے گی۔لیکن جو عورت لامذہب ہے جو مانتی ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کوئی کتاب دنیا کی ہدایت کے لئے نازل کی ہے وہ یقیناً ایسے کام کر سکتی ہے جو ہمارے علم سے باہر ہوں۔ایک عیسائی عورت کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ کیا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی تعلیم موجود ہے۔ایک یہودی عورت کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ کیا کر سکتی ہے کیونکہ اس کی تعلیم موجود ہے۔لیکن ایک لامذہب عورت کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا کرے گی کیونکہ اس کی کوئی ایسی تعلیم نہیں جس کی بنا ءپر یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ وہ کیا کچھ کرے گی۔اسی طرح اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عورت کی دعوت قبول کی اور کھانا کھایا(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام قصۃ الشأۃ المسمومۃ)۔یہ الگ بات ہے کہ اس نے کھانے میں زہر ملا دیا۔یہ انفرادی فعل تھا کیونکہ یہودی تعلیم یہ نہیں کہتی کہ دوسرے کے کھانے میں زہر ملا دیا کرو۔غرض ہمارے پاس کوئی نہ کوئی بنیاد ایسی ہو نی چاہیےجس پر چلنے سے ہم محفوظ ہو جائیں اور وہ بنیاد مذہب کے سوا اور کوئی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔تمہیں دنیا کے حالات پر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ مذہب بھی بہت سی بدیوں کو روک رہا ہے چا ہے وہ جھوٹا ہو یا سچا۔اگر سچا ہو گا تو نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ، وہ تو ہر قسم کی خرابیوں اور گندوں سے بچائے گا لیکن جو جھوٹا مذہب ہو وہ بھی بہت سی بدیوں سے لوگوں کو بچا لیتا ہے کیونکہ اس کے اندر اخلاقی تعلیم ضرور پائی جاتی ہے۔پس فرماتا ہے جو شخص مذہب کو تسلیم نہیں کرتا تم دیکھو گے کہ وہ قسم قسم کی خرابیوں میں مبتلا ہوجائے گا۔مذہب کو تسلیم کرنے والا اگر گناہ بھی کرے گا تو ساتھ ہی ساتھ اس کے دل میں یہ بھی احساس پیدا ہو گا کہ میں مذہب کے خلاف چل رہا ہوں اور میرا فعل میری غلطی کا نتیجہ ہے لیکن جو شخص کسی مذہب کو ماننے والا نہیں وہ غلطی بھی کرے گا تو کہے گا کہ میں ٹھیک کر رہا ہوں اور یہ مقام کہ بدی کو جائز سمجھا جائے بڑا خطرناک ہو تا ہے۔دین کے چھٹے معنے عبادت الٰہیہ کے (۶)دین کے چھٹے معنے عبادت الٰہیہ کے ہیں اس لحاظ سے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ کے یہ معنے ہوں گے کہ مجھے بتا تو سہی اس شخص کا حال جو دین یعنی عبادت الٰہیہ کا انکار کرتا ہے۔عبادت الٰہیہ بھی انسان کو بڑی بڑی نیکیوں کی طرف لے جاتی ہے۔یہ عبادت بھی خواہ سچی ہو یا جھوٹی دونوں صورتوں میں بدیوں سے روکنے والی ہو تی ہے یہ ضروری نہیں کہ سچے مذہب کی بتائی ہوئی عبادت الٰہیہ ہی بدیوں سے