تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 506
کی حکمت کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ غار ثور میں داخل ہوگئے تو مکڑی نے اس کے منہ سے نکلے ہوئے ایک درخت کی شاخوں پر جالا تن دیا۔جن لوگوں نے مکڑی کو جالا تنتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ مکڑی منٹوں میں جالا تن دیتی ہے۔یہ ایک خدا ئی فعل تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ظاہر ہوا۔کھوجی ساتھ تھا اس نے مکہ والوں سے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہیں اس غار میں ہیں اور کہیں نہیں گئے۔وہ چاہتے تو اس وقت بڑی آسانی سے جھانک کر آپ کو دیکھ سکتے تھے مگر سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح جھانک سکتے جب کہ ایک فعّال خدا موجود تھا۔خدا تعالیٰ نے اس وقت ان کی گر دنیں پکڑی ہوئی تھیں اور وہ غار کی طرف دیکھ ہی نہیں سکتے تھے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ وہ مکہ سے سات میل تک اپنے کھوجی کے ساتھ آئے عین غار ثور کے منہ پر پہنچ کر وہ اس کی بات نہیں مانتے اور ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارا کھوجی آج پاگل ہو گیا ہے بھلا اس غار میں بھی کوئی جا سکتا ہے مکڑی نےجالا تنا ہواہے اگر کوئی اندر دا خل ہو تا تو یہ جالا ٹوٹ نہ جاتا ؟ اب دیکھ لو جہاں تک انسانی تدبیر کا سوال ہے یہ امر ناممکن تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نظر نہ آتے۔اسی لئے حضرت ابوبکر ؓ اس وقت گھبرائے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ اب تو کفار اتنے قریب آچکے ہیں کہ اگر وہ ذرا بھی جھک کر ہمیں جھانکیں تو دیکھ سکتے ہیں۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ابوبکر غم مت کرو خدا ہمارے ساتھ ہے (الروض الانف؛ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم وابوبکر فی الغار) حالانکہ وہ ابو بکر کو پکڑنے نہیں آئے تھے اگر وہ ان کو پکڑ بھی لیتے تو مار پیٹ کر چھوڑ دیتے وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑنا چاہتے تھے۔مگر جس شخص کو پکڑنے کے لئے وہ نہیں آئے وہ تو گھبرا تا ہے اور جس کو پکڑنے کے لئے آئے ہیں وہ بڑے اطمینان سے کہتا ہے کہ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ان کفار میں یہ طاقت ہی کہاں ہے کہ وہ ہمیں جھانک کردیکھ سکیں۔خدا ہمارے ساتھ ہے۔وہ عرش پر بیٹھا ہوا نہیں۔بلکہ دنیا کے ذرہ ذرہ پر کامل تصرف رکھتا ہے اس پر حضرت ابو بکرؓ نے کہا یا رسول اللہ میں اپنے لئے تو نہیں گھبرایا مجھے پکڑ کر اگر انہوں نے مار بھی ڈالا تو کیا ہوا میری گھبراہٹ تو صرف آپ کے لئے تھی۔کہ کہیں آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچے کیونکہ اگر آپ کو کوئی ضرر پہنچا تو دین تباہ ہو جائے گا۔دیکھو کتنا عظیم الشان یقین تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کی باد شاہت پر حاصل تھا۔آپ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے منشا کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔پھر حنین کے موقع پر جب صحابہؓ کا لشکر کفار کے تیروں کی بوچھاڑ سے پیچھے ہٹ گیا اور اس کے قدم اکھڑ گئے تو ایک وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا آیا جب صر ف ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہ گیا۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھنا چاہا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی سواری کی باگ پکڑ لی اور