تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 505
حالانکہ پو شیدہ نہیں ہوا بلکہ برا بر قائم رہا ہے اور آئندہ نسل میں کسی وقت آکر ظاہر ہو جائے گا۔بعض قیاس آرائیاں ہوتی ہیں لیکن یہ قیاس آرائی نہیں ایک ثابت شدہ حقیقت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا خدا اس دنیا میں ہر فعل کا نتیجہ پیدا کررہا ہے اور یہی ایک ایسا عقیدہ ہے جس کے ذریعہ دنیا میں اعلیٰ درجہ کی نیکی پیدا ہو تی ہے۔جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ اخلاقی اور قومی ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتا ہے اور قومی اصلاح کا خیال اس کے دل سے نکل جاتا ہے اور نفسی نفسی کے جذبات سے متأثر ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے اسی نقطہ نگاہ کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے اپنے متبعین کو یہ دعا سکھلائی ہے کہ اے خدا تیری بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی آئے (متی باب ۶ آیت ۱۰) مسیحی اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ زمین پر بھی تیرے احکام کا غلبہ ہو حالانکہ وہ تو پہلے سے ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جس طرح آسمانی لوگ تیری حکومت کی نسبت تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جاری ہے زمینی لوگ بھی اسی طرح ماننے لگیں۔درحقیقت اگر دنیا کہ لوگ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کی نسبت یقین رکھیں کہ وہ اس دنیا میں بھی موجود ہے تو دنیا کی خرابی بالکل مٹ جائے۔قَادِرٌ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ خدا پر یقین ہی انسان کو حقیقی قربانی پر آمادہ کرتا ہے۔دیکھو صحابہ نے کیا کچھ قربانی کی۔ان کے بیوی بچے بھی تھے مگر وہ جانتے تھے کہ ہمارا خدا زندہ ہے ہم مر جائیں گے تو وہ ان کی خبر گیری کرے گا۔اگر وہ بھی مر جائیں گے تو اگلے جہان میں ہمیں بدلہ مل جائے گا۔جو شخص خدا تعالیٰ کو ذرہ ذرہ کا دیکھنے والامانتا ہے وہ غریبوں پر ظلم نہیں کر سکتا وہ قوم کی غفلت پر خاموش نہیں رہ سکتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ سزادے گا اور اس کا اثر اس پر بھی پڑے گا۔وہ اپنی روحانی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہو سکتا۔وہ دکھاوا نہیں کر سکتا کیونکہ ایسا شخص اپنا بدلہ خدا سے چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ تو خود دیکھ رہا ہے دکھاوے کی کیا ضرورت ہے اور جب وہ خود نیکی کرتا ہے تو لوگوں کو نیکی سے کب روک سکتا ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا قانون گو اس دنیا میں ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔مگر جب خدا تعالیٰ کے مامور دنیا میں آتے ہیں تو یہ قانون نہایت نمایاں رنگ اختیار کر لیتا ہے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی ظالم کو سزاد یتا ہے، خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی نیک لوگوں کو ترقی دیتا ہے۔مگر جب نیک اور متقی لوگوں کی جماعت کسی مامور کے ذریعہ قائم کی جا رہی ہو تو اس وقت خدا تعالیٰ کا یہ قانون بڑے نمایاں طور پر ظاہر ہو نے لگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد جب غار ثور میں جا چھپے اور حضرت ابو بکر ؓ آپؐکے ساتھ تھے تو مکہ کے کفار کا قافلہ آپ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور اس نے ایک کھوجی بھی اپنے ساتھ لے لیا۔پاؤں کے نشانا ت کو دیکھتے دیکھتے آخر تمام کفار غار ثور کےمنہ پر جا پہنچے۔یہ غار دو تین گز لمبی چوڑی ہے۔اللہ تعالیٰ