تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 504
بیٹھا ہوا۔یہ نہیں کہ تم چوری کرو اور وہ عرش پر خاموش بیٹھا رہے۔بلکہ کوئی جرم اور کوئی فعل ایسا نہیں جس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو، خواہ وہ جلد نکلے یاد یر سے۔کہتے ہیں خدا کی لاٹھی نظر نہیں آتی مگر جب پڑتی ہے تو اس کی چوٹ بڑی سخت ہو تی ہے۔پس تقدیر کا صرف اتنا مفہوم ہے کہ ہمارا خدا چپ کر کے بیٹھا ہوا نہیں بلکہ وہ تمام افعال کے نتائج پیدا کرتا رہتا ہے جو لوگ بھی خدا تعالیٰ کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چپ کر کے بیٹھا ہوا ہے دنیا کے کاموں میں کوئی دخل نہیں دے رہا ان کے عمل اور خیالات پر مذہب کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے نعوذباللہ من ذالک یوں ہی ایک بڑمار دی ہے کہ یوں کرو تو اس کےیہ نتائج پیدا ہو ں گے۔ورنہ وہ دنیا کے کاموں میں کوئی دخل نہیں دے رہا، جو کچھ کرتے ہیں ہم کرتے ہیں اللہ میاں صرف عرش پر بیٹھا ہنس رہا ہوتا ہے کہ خوب تماشا ہو رہا ہے۔لیکن ہم اس قسم کے خدا کے قائل نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کے کاموں میں دلچسپی لے رہا ہے اور ہر کام کے نیک یا بد نتائج پیدا کر رہا ہے۔اسی کی طرف سورۃ فاتحہ کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ۔جب خداجزا و سزا کا مالک ہے تو دنیا میں ہر فعل کا نتیجہ جلد یا بدیر ضرور نکلتا ہے اور اگربعض دفعہ وہ نتائج اس جہاں میں مخفی ہو تے ہیں تو اگلے جہاں میں نکل آتے ہیں۔دنیا نے قرآن کریم کی اس پیش کردہ صداقت کا ایک لمبے عرصہ تک انکار کیا مگر اب چند سال ہوئے سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ہر نطفہ جو انسان کے جسم میں سے نکلتا ہے اس پر کچھ نشانات ہو تے ہیںجو مختلف اخلاق کے قائم مقام ہو تے ہیں۔کوئی نشان غصہ کا ہوتا ہے، کوئی دیانت کا ہوتا ہے، کوئی جھوٹ کا ہوتا ہے، کوئی سچائی کا ہوتا ہے۔فرض کرو کسی کے دادے نے یا نکڑ دادے نے جھوٹ کو اپنی عادت بنا لیا تھا تو اس کے نطفہ پر جھوٹ کا ایک نشان پڑ جائے گا جو نسلاً بعد نسلٍ چلتا چلا جائے گا۔اسی طرح اگر باپ دادا میں بعض نمایاں خوبیاں تھیں تو وہ خوبیاں ایک نشان کی صورت میں نطفہ میں آ جاتی ہیں۔اسی طرح چلتے چلتے ہو سکتا ہے کہ چھٹی یا ساتویں پشت میںان میں سے کوئی ایک نشان ٹوٹ جائے اور وہ کیریکٹر جس کاوہ قائم مقام تھا پیدا ہو نے والے بچے میں آجائے۔فرض کرو کہ وہ کیریکٹر چوری کا تھا تو بچہ بڑا ہو کر چور بن جاتا ہے اور ساراخاندان حیران رہ جاتا ہے کہ اس کا نہ باپ چور تھا نہ دادا چور تھا پھر اس میں چوری کی عادت کہاں سے آگئی۔حالانکہ وہ اثر باپ دادا سے نہیں بلکہ اس سے بھی پہلے کے آباؤ اجداد سےنطفہ کےذریعہ سے چلتا چلا آرہا تھا جو اب آکر ظاہر ہوا۔نکڑ دادے میں چوری کی عادت تھی جو چھٹی یا ساتویں پشت میں آکر ظاہر ہوگئی۔اسی طرح جھوٹ، دغابازی اور ظلم سب افعال ایسے ہیں جو انسانی نطفہ پر اثر کرتے ہیں اور اس پر ان اخلاق کے نشانات قائم ہو جاتے ہیں جو آئندہ نسلوں میں ظاہر ہوجاتے ہیں۔انسان سمجھتا ہے کہ میرا عمل پوشیدہ ہو گیا