تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 503

کوئی شخص یہ فقرہ کہے اور دوسرا سن کر کہہ دے کہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔پاخانہ تو چوڑھا صاف کرتا ہے تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور کہنے والے کو پاگل قرار دیں گے۔اسی طرح ہم جب زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے خدا کا ذکر کررہے ہو تے ہیں اور کہتے ہیں کہ سب کام وہ کرتا ہے تو اس میں چوری اور بدکاری کا کیا ذکر ہے کہ یہ کہا جائے کہ خدا ہم سے چوری کرواتا ہے، خدا ہم سے بدکاری کرواتا ہے، خدا ہم سے ظلم کرواتا ہے، خدا ہم سے بد دیانتی کرواتا ہے۔اس سے زیادہ بے شرمی اور بے حیائی اور کیا ہو گی۔اور پھر نام اس کا تقدیر رکھا جاتا ہے۔حالانکہ یہ اوّل درجہ کی بے دینی اور کفر ہے۔وہ احمق اور نادان لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر خدا کچھ کرے گا تو کفر چھڑوائے گا یا کفر کروائے گا، بےدینی چھڑوائے گا یا بے دینی کروائے گا، چوری کروائے گا یا چوری چھڑوائے گا ؟ ایک شریف آدمی اگر کسی کام میں دخل دیا کرتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ کیا وہ چوری کرواتا ہے یا چوری کرنے سے روکتا ہے؟ قتل کرواتا ہے یا قتل کرنے سے روکتا ہے ؟ اگر ان کے متعلق یہ بات کہی جائے کہ انہوں نے فلاں جگہ چوری کروائی ہے تو وہ لال لال آنکھیں نکال کر آ جائیں گے کہ تم نے ہماری ہتک کی ہے مگر خالقِ کون ومکان اور تمام نیکیوں کے سرچشمہ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ہم سے ڈاکاڈلواتا ہے، وہ ہم سے فریب کرواتا ہے اور پھر اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم نے بھی یہی تعلیم پیش کی ہے۔نعوذباللہ من ذالک۔اس قسم کی پاک اور بے عیب کتاب کی طرف اتنا گندہ اور ناپاک عقیدہ منسوب کرنا اور پھر اپنے آپ کو مسلمان کہنا بتاتا ہے کہ مسلمان کس حد تک گر چکے ہیں اور وہ کیسے بے دین ہو گئے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ اگر ہم نے جبراً لوگوں کو کسی بات پر قائم کرنا ہو تا تو ہم ان کو توحید پر قائم کرتے۔پھر حدیثیں سناتے ہیں کہ جو کچھ دنیا میںہو نا ہے وہ خدا نے پہلے سے لکھ رکھا ہے اور اس کے قلم کی سیاہی خشک ہو چکی ہے(بخاری کتاب القدر باب جف القلم علی علم اللہ )۔وہ اتنا غور نہیں کرتے کہ جس چیز سے خدا کی خدائی پر حرف آتا ہے اسے ہم قرآن اور حدیث کی طرف منسوب ہی کس طرح کرسکتے ہیں۔خصوصاً ایسا عقیدہ جو اسلام کی اہم تعلیموں کے خلاف ہے، جو قرآن کے خلاف ہے اس کو تقدیر کے نام سے پیش کرنا اتنا گھناؤنا اور گندہ فعل ہے کہ کوئی عقلمند اور باغیرت مومن اسے ایک لحظہ کے لئے بھی برداشت نہیں کرسکتا۔اس قسم کی تقدیر کوئی تقدیر نہیں۔یہ ایک ڈاکو کی تقدیر تو ہو سکتی ہے مگر ہمارے پاک خدا کی تقدیر نہیں ہو سکتی ہمارے پاک خدا کی تقدیر دنیا کو پاک کرنے کے لئے جاری ہے نہ کہ اس کو ناپاک اور گندہ کرنے کے لئے۔ہم جب کہتے ہیں کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا تو اس کا وہ مفہوم نہیں ہو تا جو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ اس کے معنے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کے ہو تے ہیں یعنی تمام نتائج خدا تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بے کار نہیں