تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 501
یہ حکومت اگر پیش کی جائے تو دنیا میں سوائے پاگل اور ضدی کے اور کون اس کا انکار کر سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ مجھے بتاؤ تو سہی کیا دنیا میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جو ایسی حکومت کا منکر ہو۔حکومت کا اگر منکر ہو جائے تو بےشک ہو جائے غلبہ کا اگر منکر ہوجائے تو بے شک ہوجائے مگر جس حکومت میں یہ تین باتیں پائی جائیں اس کا کوئی منکر نہیں ہو سکتا۔اور اگر کوئی ہو تو فَذٰلِکَ الَّذِیْ یَدُعُّ الْیَتِیْمَ وہ شخص بڑا ہی بے دین ہو گا اور اس کے اخلاق سخت خراب ہوں گے۔اس کے مقابلہ میں جو شخص اس حکومت کوماننے والاہوگا اس کے اخلاق مضبوط ہو ں گے اور ا سے اپنے اعمال پر تصرّف حاصل ہوگا۔یہی وہ چیز ہے جسے اسلامی اصطلاح میں حکومت الٰہیہ کہتے ہیں۔مگر یاد رکھنا چاہیے اس سے وہ حکومتِ الٰہیہ مراد نہیں جس کا آج کل شور مچایا جا رہا ہے۔چھوٹے لڑکے جب آپس میں کھیلتے ہیں تو بعض دفعہ ایک لڑکا جھک جاتا ہے اور دوسرا لڑکا اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے مگر سیدھا نہیں بلکہ الٹا۔جس طرح سکاٹس ایملشن پر مچھلی کی تصویر ہو تی ہے۔اس کے بعد وہ لڑکا جو نیچے ہو تا ہے کہتا ہے’’ میرے کوٹھے کون چڑھیا ‘‘۔دوسرا کہتا ہے ’’کانٹو‘‘ اس پر وہ کہتا ہے ’’اُتّر کانٹو میں چڑھاں‘‘ چنانچہ وہ اتر کر نیچے آجاتا ہے اور وہ لڑکاجو نیچے ہو تا ہے اوپر سوار ہو جاتا ہے۔یہی حال ان حکومت الٰہیہ کا مطالبہ کرنے والوں کا ہے نہ حکومت الٰہیہ ہے نہ کچھ اور محض لوگوں میں شہرت حاصل کرنے اور وزارتوں پر قبضہ کرنے کے لئے اس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔حکومت الٰہیہ تو محض خدا تعالیٰ کی قائم کردہ ہو تی ہے بندے کی قائم کردہ نہیں ہو تی۔آخر کون سا انسان ہے جو اس قسم کی حکومت کو نافذ کر سکتا ہے۔سوائے اس کے جو یہ کہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور اس لئے آیا ہوں کہ دنیا میں حکومت الٰہیہ کو قائم کروں۔پھر حکومت الٰہیہ کسی ایک ملک پر نہیں ہو سکتی۔حکومت الٰہیہ جب بھی آئے گی ملکی حدبندی سے آزاد ہو کر آئےگی۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اس بات کو بار بار پیش کیا ہے کہ پاکستان میںاس وقت آئین اسلام جاری نہیں ہو سکتا۔لیکن میں نے جب بھی کسی لیکچرمیں یہ بات بیان کی ہے فوراً اخبارات میں شور مچ جاتا ہے کہ ایک مذہبی آدمی ہو کر شریعت کی مخالفت کی جارہی ہے۔حالانکہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ شریعت اسلام پاکستان میں جاری نہیں ہو سکتی میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس وقت آئین اسلام جاری نہیں کیا جا سکتا اور شریعت اسلام اور آئین اسلام میں فرق ہے۔آئین اسلام خلافت سے تعلق رکھتا ہے۔اور خلافت کے معنے یہ ہیں کہ سارے مسلمان اس کے تابع ہو جائیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا عرب پاکستان کے تابع ہو جائے گا ؟ کیا فلسطین پاکستا ن کے تابع ہوجائےگا؟ کیا انڈونیشیا پاکستان کے تابع ہوجائے گا؟ کیا اور اسلامی ممالک پاکستان کے تابع ہوجائیں گے ؟ وہ ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اس وقت مسلمانوں میں کوئی خلافت نہیں اور چونکہ وہ پاکستان کے تابع نہیں ہو سکتے اس لئے پاکستان میں