تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 495
وادیٔ غیر ذی زرع میں رہنے والے اور ایک غیر متمدّن ملک میں پرورش پانے والے بھتیجے کو بلایا اور اس سے کہا اے میرے بھتیجے! تجھے معلوم ہے کہ میری قوم میرا کتنا لحاظ کرتی ہے آج وہ میرے پاس آئی تھی اور اس نے مجھے کہا تھا کہ ہم نے تیری خاطر اب تک تیرے بھتیجے کو چھوڑ رکھا ہے اسے کوئی سزا نہیں دی ( در اصل ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے اتنی سزا نہیں دی جس سے وہ ختم ہو جائے ورنہ سزا تو وہ دیتے رہتے تھے)مگر اب معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ یہ لڑائی کسی طرح ختم ہو جائے۔چنانچہ اے میرے بھتیجے آج انہوں نے یہ یہ تجویزیں میرے سامنے رکھی تھیں جن کا میںکوئی جواب نہیں دے سکا۔میری قوم مجھے کہہ گئی ہے کہ تیرا بھتیجا ان میں سے جس تجویز کو چا ہے مان لے ہم اس پر راضی ہیں اور اگر وہ کسی تجویز کو نہ مانے تو پھر تُو اس کا ساتھ چھوڑ دے کیونکہ وہ غیر معقولیت پر قائم ہے اور بلا وجہ ضد کرتا ہے اور اگر تو اس کے بعد بھی اپنے بھتیجے کو نہ چھوڑے تو ہم مجبورہو جائیں گے کہ تیری سیادت سے انکار کر دیں اور تجھے اپنی لیڈری سے الگ کر دیں(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام مباداۃ رسول اللہ قومہ وماکان منہ)۔چچا یعنی ابوطالب نے جب یہ کہا تو اس خیال سے کہ میں نے ساری عمر جس قوم کی خدمت کی ہے وہ بھی آج مجھے چھوڑنے کے لئے تیار ہو گئی ہے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تب ان کے بھتیجے یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی یہ حالت دیکھی تو پرانی محبت اور تعلقات کی وجہ سے آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور آپ نے فرمایا اے میرے چچا میں آپ سے یہ قربانی نہیں چاہتا کہ آپ اپنی قوم کو چھوڑ دیں۔اے چچا آپ اپنی قوم کے ساتھ مل جائیں اور اسے خوش رکھیں۔باقی رہا ان کی تجاویز سو میں نے جو کچھ اپنی قوم کے سامنے پیش کیا ہے سچ سمجھ کر کیا ہے کسی دنیوی لالچ یا حرص کی وجہ سے نہیں کیا۔اور یہ تجویزیں تو کچھ چیز ہی نہیں۔اے میرے چچا اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں اس سچائی کونہیں چھوڑ سکتا جو خدا نے مجھے عطا فرمائی ہے اور جس کے پیش کرنے کا اس نے مجھے حکم دیا ہے۔باقی میں یہ نہیں چاہتا کہ آپ میری خاطر کوئی قربانی کریں آپ اپنی قوم کے ساتھ جاملیں اور مجھے میرے خدا پر چھوڑ دیں۔ا بو طالب اپنی قوم میں بہت بڑی وجاہت رکھتے تھے، ابو طالب اپنی قوم کے لیڈر سمجھے جاتے تھے ابو طالب اپنی قوم کی لیڈری چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھے مگر جب انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سنی تو ان کے دل پر اس کا ایسا غیر معمولی اثر ہوا کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ جو چیز اس انسان کی طرف سے پیش کی جا رہی ہے یہ کسی بناوٹ سے تعلق نہیں رکھتی یہ فکر و تدبیر سے تعلق رکھنے والی بات نہیں بلکہ یہ کچھ اور بات ہے جس نے ایک ایسا گہرا نقش اس کے دل پر پیدا کر لیا ہے کہ اب دنیا کی کوئی طاقت اور قوت اسے اپنے مقام سے ہلا نہیں سکتی اور سچ کی خاطر یہ ہر موت قبول کرنے کے