تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 489

سندھ میں پی جاتی ہے اور اگر اسی پر باقی پاکستان کا بھی قیاس کیا جائے تو چونکہ پاکستان کی آبادی سندھ سے بارہ گنے زیادہ ہے اس لئے معلوم ہوا کہ بہتّر کروڑ روپیہ کی شراب صرف پاکستان کے مسلمان پیتے ہیں۔میری سمجھ میں تو یہ بات نہیں آتی لیکن اگر ایسا ہی ہے تو کیا اس کا ذمہ دار اسلام ہے ؟ اسلام تو کہتا ہے کہ شراب نہ پیو۔پس یہاں وہ اطاعت مراد نہیں جسے غلامی کہتے ہیں۔قرآن جس کو اطاعت کہتا ہے وہ نظام اور ضبط ِ نفس کا نام ہے یعنی کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انفرادی آزادی کو قومی مفاد کے مقابلہ میں پیش کر سکے۔یہ ہے ضبطِ نفس اور یہ ہے نظام۔تمام قانون جو دنیا میں بنتے ہیںتمام گورنمنٹیںجو ذرائع نقل وحرکت، ریلوے، پاسپورٹ اور تجارتوں کے متعلق قانون بناتی ہیں تمام ملک کی آبادی اس کے ماتحت ہو تی ہے حکومتیں کہتی ہیں کہ فرد بے شک آزاد ہےمگر اسے ایسی آزادی حاصل نہیں کہ وہ قوم کو نقصان پہنچائے ہم فرد کو زیادہ سے زیادہ آزادی دیں گے مگر جہاں اس کا فائدہ قوم کے فائدہ سے ٹکرا جائے گا ہم اسے آزادی نہیں دیں گے۔یہ قانون ہے جو ایک لمبے تجربہ اور کشمکش اور جھگڑوں اور لڑائیوں کے بعد نکھر نکھرا کر اس صورت میں نکل آیا ہے اور تمام متمدّن دنیا کم سے کم اس وقت اس کو صحیح تسلیم کرتی ہے۔اسی کی طرف قرآن کریم نے قریباً چودہ سو سال پہلے اشارہ فرمایا اور کہا اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔مجھے اس شخص کی خبر دےجو نظام و ضبط ِ نفس کا قائل نہیں یعنی پھر میں تجھے بتاؤں گا کہ وہ اپنے اور اپنی قوم کے لئے ہرگز کسی عزت کا موجب نہیں بن رہا۔لازماً اس سے بد افعالیاں اور بد اعمالیاں ظاہر ہوں گی۔مذکورہ بالا قانون کو توڑنے کے بعد کوئی شخص نیکی پر قائم ہی نہیں رہ سکتا۔یہ کیا لطیف مضمون ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔یورپ کا کوئی ایک فلسفی بھی ایسا پیش نہیںکیا جا سکتا جس کی دس جلدوں کی کتاب میں بھی قومی کیریکٹر کے متعلق وہ مضمون بیان ہوا ہو جو اس چھوٹے سے فقرہ میں بیان کر دیا گیا ہے کہ اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن اس میں اتنا مضمون ہے کہ اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔فرماتا ہے ضبطِ نفس یا نظام کا انکار کر کے اگر کوئی کہے کہ میں نیک رہ سکتا ہوں تو یہ بالکل غلط بات ہے وہ ضرور خرابی اور فساد کا موجب ہو گا۔مثلاً گورنمنٹیں قانون بناتی ہیں کہ بائیں طرف چلویا یہ کہ دائیں طرف چلواب اگر کوئی کہے کہ میں کیوں اس پر عمل کروں۔جب سڑک پر چلنے کی عام اجازت ہے تو میں تو سڑک کے جس طرف چا ہوں گا چلوں گا دائیں یا بائیں نہیں چلوں گا۔اس شخص کا انجام ظاہر ہے کہ یہ کسی گاڑی سے ٹکرا کر زخمی ہو گا یا سامنے سے آنے والوں سے قدم قدم پر ٹکرائے گا اور سب مسافروں کے لئے تکلیف کا مو جب ثابت ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ نظام کی پابندی کے بغیر دنیا میں امن قائم ہی نہیں رہ سکتا۔پس کسی کا یہ کہنا کہ میں فلاں قانون کیوں مانوں ایک فساد کا راستہ ہے مگر نظام کی پابندی کے