تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 488

کہ خدا تعالیٰ میرے برے اعمال کی ضرور سزا دے گا خواہ دنیا میں دے یا اگلے جہان میں۔یا اچھے اعمال کا مجھے ضرور انعام دے گا خواہ دنیا میں دے یا اگلے جہان میں۔یہ خیال کسی فرد یا قوم میں پیدا ہو جانا اسے بری باتوں سے ضرور روکتا ہے۔یہ اتنی ثابت شدہ اور صاف بات ہے کہ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا سوائے اس کے کہ کوئی جان بوجھ کر اندھا ہو جائے۔پس اَرَءَیْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْنِ میں جب دِیْن کے معنے جزا و مکافاۃ کے لئے جائیں تواس آیت کے یوں معنے ہو ں گے کہ مجھے بتا تو سہی وہ کون ہے جو کہتا ہے کہ دنیا میں جزا و سزا نہیں۔وہ بےشک میرا انکار کر دے وہ بے شک خدا کو نہ مانے مگر یہ لازماً ہر انسان کو ماننا پڑے گا کہ کچھ اعمال قوموں یا انسانوں کو تنزّل کی طرف لے جاتے ہیں اور کچھ اعمال قوموں یا انسانوں کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ ایسا ثابت شدہ اصل ہے کہ جو شخص اس کا انکار کرے گا وہ ضرور تنزّل کی طرف جائے گا اور ضرور برائیوں میں مبتلا ہوجائے گا۔(۲)دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ تو مجھے بتا تو سہی وہ کون ہے جو اطاعت کا منکر ہے۔اطاعت سے مراد نظام اور ضبط کے ہیں غلامی نہیں۔غلامی کا قرآن اور اسلام دشمن ہے بلکہ سب سے پہلا مذہب جس نے دنیا سے غلامی کو اڑایا وہ اسلام ہے مگر یہ ایک الگ مضمون ہے۔لوگ غلطی سے کہتے ہیں کہ قرآن کریم میں غلامی جائز ہے میں سارا قرآن سامنے رکھ دیتا ہوں کوئی شخص مجھے ایک ہی ایسی آیت نکال دے جس میں غلامی کو جائز قرار دیا گیا ہو۔مجھے تو اب تک کوئی ایسی آیت نہیں ملی حالانکہ معترض سے سینکڑوں گُنے زیادہ میں نے قرآن پڑھا ہو گا۔پس جس چیز کو غلامی کہتے ہیں وہ قرآن میں نہیں نہ کسی حدیث میں ہے۔میں مانتا ہوں کہ مسلمانوںمیں غلطی سے غلا می کا رواج رہا ہے مگر مسلمانوں کی غلطی سے قرآن اور اسلام پر اعتراض عائد نہیں ہو سکتا۔جب ہندو یہاں تھے اس وقت بھی مسلمان سینما دیکھا کرتے تھے اور اب ہندو چلے گئے ہیں تب بھی مسلمان سینما دیکھتے ہیں۔ناچ گانا پہلے بھی ہوا کرتا تھا اور ناچ گانا اب بھی ہوتا ہے۔ریڈیو پر خبریں سننے لگو تو بدبختی آجاتی ہے۔اسے ذرا کھولیں تو فوراً ہا ہا کی آوازیں آنی شروع ہوجاتی ہیں۔اسی طرح مسلمانوں میں بے پردگی ہے۔مسلمان شرابیں پیتے ہیں اور اتنی کثرت سے پیتے ہیں کہ ابھی سندھ گورنمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ اگر رمضان میں ہم شراب روکیں گے تو گورنمنٹ کو دس لاکھ روپیہ کا نقصان ہوگا۔اوّل تو میری سمجھ میں ہی یہ بات نہیں آئی کہ اگر دس لاکھ کا گورنمنٹ کو نقصان ہو گیا تو کیا ہوا۔مگر اس سے بھی زیادہ جس چیز نے مجھے پریشان کر دیا وہ یہ ہے کہ دس لاکھ ماہوار نقصان کے معنے یہ ہیں کہ سندھ میں ماہوار پچاس لاکھ روپیہ کی شراب پی جاتی ہے۔سارے پاکستان کی آبادی سندھ سے بارہ گنے زیادہ ہے اگرصرف سندھ میں پچاس لاکھ روپیہ ماہوار شراب پر صرف کیا جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ چھ کروڑ روپیہ سالانہ کی شراب