تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 487
اتنی سزا دی جائے گی۔اگر مسیحی فلسفہ کا یہ نکتہ درست ہے تو یہ ساری گورنمنٹیں قانون اخلاق کو بگاڑنے والی ہیں۔قانون اخلاق اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے کہ وہ یہ اعلان کر دیں کہ ہم کسی کو چوری کی سزا نہیں دیں گے اگر کسی نے چوری چھوڑنی ہے تو خود بخود چھوڑ دے یا ہم کسی کو قتل کی سزا نہیں دیں گے اگر کسی نےقتل چھوڑنا ہے تواپنی مرضی سے چھوڑ دے۔مگر کیا دنیا کی کوئی گورنمنٹ ایسی بات مان سکتی ہے ؟ محض قرآن اور اسلام پر اعتراض کرنے کے لئے پادریوں نے اپنامنہ کالا کیا ہے اور ایک ایسا فلسفہ بنا کر پیش کر دیا ہے جو نہ یورپ میں رائج ہے نہ امریکہ میں رائج ہے نہ فرانس میں اور نہ جرمنی میں رائج ہے اور نہ عملاً دنیا میں ایسا ممکن ہے۔وہی پروفیسر جو کالج میں یہ پڑھاتا ہے کہ سزا کے خوف سے کام کرنا سخت برا ہو تا ہے یا جزا کی امید سے کام کرنا بد اخلاقی ہے وہ خود اس قانون پر عمل نہیں کر رہا ہوتا کیونکہ وہ تنخواہ لے کر پڑھا رہاہوتا ہےاور اگر اس کا نوکر غلطی کرتا ہے تو وہ اسے آٹھ آنے جرمانہ کر دیتا ہے۔اب کیا آٹھ آنے جرمانہ وہ اپنے نوکر کے اخلاق کو بگاڑنے اور اس کے معیارِ اخلاق کو گرانے کے لئے کرتا ہے۔اگر سزا کا خوف دلانا انسا ن کے اخلا ق کو بگاڑتا ہے تو وہ اپنے نوکر کو سزا کا خوف کیوں دلاتا ہے وہ اسے جرمانہ کیوں کرتا ہے ؟ محض اس لئے کہ وہ خود اس حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا میں انسان مختلف معیارِ اخلاق کے ہیں۔کسی پر سزا زیادہ اثر کرتی ہے کسی پر انعام زیادہ اثر کرتا ہےاور کوئی ایسا ہو تا ہے جو عشق کے مقام پر ہو تا ہے وہ سزا اور انعام سب کچھ بھول جاتا ہے۔بہرحال ابتدائی درجہ خوف کا ہے دوسرا درجہ انعام کی امید کا ہے اور تیسرا درجہ یہ ہے کہ انسان کو نیکی کی عادت ہو جاتی ہےاور وہ نیکی کے فلسفہ پر غور کر کے اس کے ذاتی جوہر سے واقف ہوجاتا ہے اور پھر وہ نیکی کو محض اس کی محبت اور رغبت کی وجہ سے کرتا ہے کسی انعام کی خواہش یا کسی سزا کے ڈر سے نہیں کرتا اور سب سے مقدّم درجہ یہ ہے کہ کسی اعلیٰ مثال کی نقل میں تکمیل نفس کی خاطر نیکی کی جائے۔اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی ترک کردو تو بنی نوع انسان کا بیشتر حصہ گناہوں اور بدیوں میں مبتلا ہو جائے گا۔پس یہ فلسفہ محض اسلام کی دشمنی کے نتیجہ میں پادریوں نے پیش کر کے اپنا ناک کاٹا ہے۔مسلمان جب تک ان کے فریبوں سے واقف نہیں تھا وہ ان باتوں سے متاثر ہو جاتا تھا۔مگر جب یہ اعتراض ان لوگوں تک پہنچے جو قرآن کریم کو سمجھتے تھے تو ان کا سارا فریب کھل گیا۔غرض جزا و سزا سے مراد یہاں اخروی جزا و سزا نہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ یہاں اخروی جزا و سزا لازمی نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ اس جزا و سزا کا ردّ ہے۔بہر حال جزا و سزا کا احساس یعنی اس بات کا کہ اچھے اخلاق سے قوم ترقی کرتی ہے اور برے اخلاق سے قوم بگڑ جاتی ہےیا اچھے اطوار سے قوم ترقی کرتی ہے اور برے اطوار سے قوم بگڑ جاتی ہے۔یا جو قومیںبرے کام کرتی ہیں آخر کسی نہ کسی وقت اس کی سزا کو بھگتتی ہیں۔یا خدا تعالیٰ کو ماننے والے کا یہ یقین