تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 486

میںخود اسی آیت کو پیش کر دیا جس میں وہ لفظ استعمال ہوا ہے اور ا س کے معنے لغت کے مطابق نہیں بلکہ تفسیر کے مطابق کر دیئےحالانکہ لغت نے تو ہمیں یہ نتیجہ نکالنے میں مد د دینی تھی کہ جو معنے ہم نے سمجھے ہیں وہ درست ہیں یا نہیں۔اگر یہ لوگ جلد بازی کی بجائے غور کرتے تو لغت میں بھی زیادتی ہوتی اور قرآن کریم کے معارف میں بھی زیادتی ہوتی۔مگر چونکہ انہوں نے جھوٹا راستہ اختیار کیا اس لئے جو کسی سابق مفسّر نے اس آیت کی تفسیر میں کسی خاص لفظ کے معنے کئے تھے وہی انہوں نے اس لفظ کے لغت میں معنے لکھ دیئے اور لغت کو قرآن کریم کی خدمت سے محروم کر دیا اور یہ غلطی ایک دو مقام پر نہیں کی گئی بلکہ ایسے بہت سے الفاظ ہیں جن کے بارہ میں یہ غلطی کی گئی ہے۔سب سے بڑی لغت کی کتاب لسان العرب ہے۔اس کو ہی دیکھا جائے تو اس میں بھی بعض مقامات پر یہ نقص نظر آئے گا۔ایک لفظ جس کے معنے وہ لکھ رہے ہیں اگر قرآن کریم میں اس کا استعمال لغت کے معروف معنوں کے خلاف نظر آیا ہے تو انہوں نے تفسیری معنے اس لفظ کے لکھ کر ا س کی سند میں قرآن کریم کی زیر بحث آیت لکھ دی۔حالانکہ چاہیے تھا کہ تفسیری معنوں کو یا تو ردّ کرتے کہ یہ لغت کے خلاف ہیں یا پھر عربوں کے محاورہ سے مثالیں دے کر ثابت کرتے کہ یہ تفسیری معنے درست ہیں اور عرب ان معنوں میں اس لفظ یا جملہ کو بولتے ہیں۔آیت کو ہی دلیل کے طور پر پیش کر دینے سے اعتراض دور نہیں ہو تا۔بلکہ اور مضبوط ہوتا ہے۔اگر وہ زیادہ تحقیق کرتے تو یقیناً اس کے کئی حل نکل آتے مگر انہو ں نے جلد بازی سے کام لیا اور اس طرح یہ نقص رہ گیا۔چونکہ پادریوں کا بھی یوروپین فلسفہ کی تعلیم میں دخل تھا اس لئے انہوں نے اسلام پر اعتراض کرنے کے لئے فلسفہ میں ایسی کئی باتیں داخل کر دیں جو در حقیقت کسی فلسفہ کا نتیجہ نہیں بلکہ قرآن پر اعتراض کرنے کے لئے انہوں نے ان مسائل کو فلسفہ میں شامل کر دیا۔چونکہ قرآن کریم بار بار اس مسئلہ کو پیش کرتا ہے کہ مرنے کے بعد جنت اور دوزخ ہو گی۔اس لئے انہوں نے فلسفہ کے نام سے یہ بحث اٹھا دی کہ جو کام انسان عذاب کے ڈر کے مارے کرتا ہے یا انعام کی خواہش سے کرتا ہے وہ کوئی نیکی نہیں بلکہ نہایت ادنیٰ درجہ کا خُلق ہے۔مگر یہ بالکل جھوٹ ہے اگر یہ ادنیٰ اخلاق ہیں تو دنیا میں اخلاق ہیں ہی نہیں۔کون سا کام ہے جو انسان ڈر کے مارے نہیں کرتا یا کون سا کام ہے جو انسان کسی فائدہ کی امید میںنہیں کرتا۔یہی پادری ؟ اعتراض کرنے والا ہے اگر ا س کے سامنے پاؤ بھر مرچیں رکھ دی جائیں اور اسے کہا جائے کہ یہ مرچیں کھاؤ تو کیا وہ کھا لے گا۔وہ کہے گا میں مرچیں نہیں کھا سکتا کیونکہ مجھے پیچش ہوجائے گی اب کیا ڈر کے مارے اس نے مرچوں کو چھوڑا یا نہیں۔مگرکیا یہ بدی ہو جائے گی ؟ اگر ڈر کے مارے کسی کام کو چھوڑنا برا ہے تو یہ قانون اور تعزیرات وغیرہ کیوں ہیں اور کیوں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر چور چوری کرے گا تو اسے