تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 45

لوگوں کو سنانا شروع کردیا تھا اور اہل مکہ میں مخالفت اور تکذیب کے آثار شروع ہوگئے تھے۔اسی وجہ سے جبریل آپ کو ایک سخت مہیب شکل میں دکھائے گئے تا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان ہو کہ اب انذار کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔وہ مہیب شکل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نہیں تھی بلکہ اس آنے والی وحی کے پیش خیمہ کے طور پر تھی جس میں مخالفین کی تباہی اور بربادی کی خبریں دی جانے والی تھیں۔اس کے بعد مدینہ منورہ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی کی صورت میں جبریل کو دیکھا تو اس میں حکمت یہ تھی کہ اگر کسی اجنبی کی شکل آپ کو دکھائی جاتی تو صحابہؓ کے دل میں شبہ گذرتا کہ ممکن ہے یہ کوئی اور شخص ہو جسے ہم نہ جانتے ہوں باہر سے آیا ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرکے چلا گیا ہو۔مگر دحیہ کلبی کی شکل میں جبریل کے آنے پر ان کے دلوں میں اس قسم کا کوئی وسوسہ پیدا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ دحیہ کلبی ان کا ہمسایہ تھا اور اگر ان کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا ہوتا کہ یہ شکل جو ہم نے دیکھی ہے دحیہ کلبی کی تھی یا جبریل کی تو وہ فوراً دحیہ کلبی سے پوچھ سکتے تھے کہ میاں تم کل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے تھے یا نہیں اور جب وہ کہتا کہ میں تونہیں آیا تھا تو انہیں یقین آجاتا کہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا وہی درست تھا اور درحقیقت جبریل ہی دحیہ کلبی کی شکل میں آپ کے پاس آیا تھا۔پس صحابہؓ کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ جبریل ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آرہا ہے اللہ تعالیٰ اسے دحیہ کلبی کی شکل میںنازل فرماتا تاکہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو یہ بتائیں کہ ذَالِکَ جِبْـرِیْلُ۔یہ جبریل تھا جو ابھی تمہارے سامنے میرے ساتھ باتیں کرتا رہا تو ان کے دلوں میں کوئی شبہ پیدا نہ ہو کہ یہ تو دحیہ کلبی تھا۔وہ فوراً سمجھ جاتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرمارہے ہیں درست ہے۔کیونکہ دحیہ کلبی تو اس وقت فلاں جگہ موجود ہے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں دو مختلف مقامات پر اپنے جسم کے ساتھ دیکھا جاسکے۔مثلاً بشارت الرحمٰن صاحب ہمارے کالج کے پروفیسر ہیں۔بشارت کے معنے خوشخبری کے ہیں اور رحمٰن اس ذات کو کہتے ہیں جو انسان پر بار بار رحم کرنے والی ہے۔اگر وہ کسی شخص کو چلتے چلتے عین بیداری کی حالت میں نظر آجائیں اور اس کا قلب محسوس کرے کہ یہ درحقیقت ایک کشفی نظارہ ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے تو اس کے بعد اپنے مزید اطمینان اور تسلی کے لئے اگر وہ بشارت الرحمٰن صاحب کا واقف ہے تو ان سے دریافت کرے گا کہ کیا کل ڈاکخانہ کے پاس یا فلاں جگہ فلاں وقت آپ ہی مجھے ملے تھے؟ وہ کہیں گے کہ میں تو آپ سے نہیں ملا۔میں تو اس وقت ڈاکخانہ میں گیا ہی نہیں اپنے گھر میں بیٹھا تھا۔اس بات سے اسے یقین آجائے گاکہ وہ جو میرے دل میں یہ احساس تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کشفی رنگ میں ایک نظارہ دکھایا گیا ہے بالکل درست ہے۔اگر