تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 481
میں بڑی شان کہہ دیتے ہیں یا اس کے معنے حالتِ مخصوصہ کے سمجھ لیں۔اَرَءَيْتَ کے معنے اس جگہ تمام مفسرین اور نحویوں نے اَخْبِرْنِیْ کے کئے ہیں یعنی مجھے بتا۔میں نے بتایا کہ جب یہ لفظ رؤیتِ قلبی کے معنوں میں استعمال ہو تو اس کے دو مفعول آیا کرتے ہیں۔ایک مفعول تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ مجھے وہ شخص بتا جو تکذیبِ دین کرتا ہے۔پس ایک مفعول تو آگیا سوال یہ ہے کہ دوسرا مفعول کہاں ہے؟سو ظاہر ہے کہ وہ مفعول یہاں محذوف ہے۔حوفی نے جو ایک بڑے نحوی گذرے ہیں یہاں دوسرا مفعول اَلَیْسَ مُسْتَحِقًّا عَذَابَ اللہِ کے جملہ کو قرار دیا ہے یعنی مجھے بتا تو سہی کہ جو شخص دین کی تکذیب کرتا ہے کیا وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق نہیں یعنی وہ عذاب کا مستحق ضرور ہے اور زمخشری نے وہ الفاظ مَنْ ھُوَ کے بتائے ہیں(البحر المحیط زیر آیت ھذا)۔زمخشری معتزلی ہے اور معتزلیوں کے خیالات آج کل کے نیچریوں سے ملتے جلتے تھے۔لیکن ادب اور نحو میں وہ بڑے پایہ کےانسان ہیں ایک عربی لغت کی کتاب بھی انہوں نے لکھی ہے اور کم سے کم انہوں نے قرآن کریم کی یہ خدمت ضرور کی ہے کہ وہ قرآن کریم کے الفاظ کی تائید میں عربی کے محاورات، نحو کے قواعد اور شعر بڑی کثرت سے لے آتے ہیں جس سے معنے بالکل واضح ہو جاتے ہیں۔اور میرے نزدیک ان کی ایک یہ بھی بڑی خدمت ہے کہ انہوں نے بہت سی رطب و یابس باتوں سے اپنی تفسیر کو بالکل پاک کر دیا ہے گو اس کے ساتھ وہ ایک حد تک معجزات کا بھی انکار کر دیتے ہیں مگر جو لغو باتیں قرآن کریم کی طرف منسوب ہوتی تھیں ان سے بھی انہوں نے ایک حد تک تفسیر کو پاک کر دیا ہے۔نیچری کی تلوار دو طرفہ چلتی ہے وہ لغویات بھی اڑا دیتا ہے اور ساتھ ہی کچھ سچے معجزے بھی اڑا دیتا ہے۔علامہ زمخشری کے تجویز کردہ محذوف کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے آیت کا مفہوم یہ ہو گا کہ اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ مَنْ ھُوَ۔یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اے مخاطبِ قرآن مجھے بتا تو سہی کہ وہ شخص جو دین کا انکار کرتا ہے وہ کون ہے۔اس امر کی دلیل کہ اَرَءَيْتَ میں رؤیتِ بصری نہیں بلکہ قلبی ہے زمخشری نے یہ دی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت میں اس آیت کی ایک قرأت اَرَءَيْتَکَ ہے اور یہ مسلّمہ بات ہے کہ کافِ خطاب رؤیت بصری میں نہیں لگ سکتا(کشاف و بحر محیط زیر آیت ھذا)۔وہ اس قرأت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہاں رؤیت بصری مراد نہیں ہو سکتی مگر میرے نزدیک اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں تھی یہاں رؤیتِ قلبی ہی مراد ہو سکتی ہے بصری ہو ہی نہیں سکتی۔حوفی کہتے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہاں رؤیتِ بصری ہی مراد ہو اور حذف کوئی نہ ہو(بحر محیط زیر آیت ھذا)