تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 480

ہوئی ہے اگر میں کسی سے کہنا چاہوں کہ میں نے اس گھڑی کو دیکھا تو میں کہوں گا رَءَیْتُ ہٰذِہِ السَّاعَۃَ(مفردات)۔لیکن کبھی یہ لفظ رؤیتِ قلبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس وقت اس کے معنے دیکھا کی بجائے ’’پایا‘‘ کے ہوتے ہیں۔اردو میں بھی کہتے ہیں ’’میں نے اس کو ایسا پایا‘‘۔چنانچہ عربی زبان میں کہتے ہیں رَءَیْتُ زَیْدًا اَسَدًا میں نے زید کو شیر دیکھا اب اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ میں نے زید کو دیکھا تو شیر کی طرح اس کے پنجے تھے بلکہ معنے یہ ہوں گے کہ میںنے زید کا تجربہ کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑا بہادر انسان ہے۔یہ رؤیتِ قلبی کہلاتی ہے کیونکہ تجربہ دل سے ہوتا ہے ظاہری آنکھ سے نہیں ہوتا۔پس رَءَیْتُ زَیْدًا اَسَدًا کے یہ معنے نہیں کہ میں نے ظاہری آنکھوں سے زید کو دیکھا تو وہ شیر نظر آیا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ میں نے سرد اور گرم اور اچھی اور بری حالتوں میں اس کا تجربہ کیا اور میرے دل نے یہ نتیجہ نکالا کہ وہ ایسا ہے۔رؤیتِ قلبی کے معنوں میں جب یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے دو مفعول آتے ہیں اور رؤیتِ بصری کی صورت میں صرف ایک مفعول آتا ہے۔مگر جب اس سے پہلے ہمزہ آجائے تو اس وقت اس کے ایک اور معنے بھی ہو جاتے ہیں جو اس کی عام بناوٹ کے بالکل خلاف ہیں یعنی اس لفظ کے معنے پانے کے نہیں رہتے بلکہ یہ معنے ہو جاتے ہیں کہ اَخْبِـرْنِیْ مجھے بتاؤ۔حالانکہ مفرد لفظ کے یہ معنے نہیں ہوتے ماضی کے صیغہ پر ہمزہ زائد کر دینے سے یہ معنے پیدا ہوتے ہیں۔پس اَرَءَيْتَ۔۱ کے لفظی معنے گو یہ ہیں کہ ’’کیا تو نے دیکھا‘‘۔مگر عرب کے محاورہ کے مطابق اس کے معنے اَخْبِـرْنِیْ یعنی مجھے بتلاؤ کے ہو جاتے ہیں۔اَلدِّیْن۔اَلدِّیْنُ۔دین کے عربی زبان میں تیرہ معنے ہیں (۱) اَلْـجَزَاءُ وَالْمُکَافَاۃُ۔بدلہ اور مطابق عمل نتیجہ (۲) اَلطَّاعَۃُ۔فرمانبرداری (۳) اَلْـحِسَابُ۔حساب لینا (۴) اَلْقَھْرُ وَالْغَلَبَۃُ وَالْاِسْتِعْلَاءُ۔کسی پر غلبہ پانا اور اس پر فائق ہو جانا (۵) اَلسُّلْطَانُ۔بادشاہت اور حکومت (۶) اَلتَّدْبِیْـر۔تدبیر (۷) مَا یُعْبَدُ بِہِ اللہِ۔وہ حرکات و سکنات یا الفاظ جن کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے جس کو ہم نماز پڑھنا کہتے ہیں (۸) اَلْمِلَّۃُ۔دین یا نظامِ جماعت (۹) اَلْوَرَعُ۔بدیوں سے رکنے کی خواہش (۱۰) اَلْـحَالُ۔حالت یا کیفیت (۱۱)اَلْقَضَاءُ۔قضاء و قدر جسے تقدیر کہتے ہیں (۱۲) اَلْعَادَۃُ۔عادت کا ہو جانا (۱۳) اَلشَّاْنُ۔ایک خاص حالت (اقرب) شان کے معنے حالت کے ہوتے ہیں لیکن اَلشَّاْنُ کا لفظ عام حالت سے کسی قدر بلند معنوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے ہمارے ملک ۱ نوٹ: اَرَءَيْتَ کے محاورہ کے مطابق معنے اَخْبِرْنِیْ کے ہیں لیکن ہم نے ترجمہ کی سہولت کی غرض سے آیت کا لفظی ترجمہ کیا ہے کیونکہ بامحاورہ ترجمہ کریں توبعض الفاظ خطوط وجدانی میں لانے پڑتے ہیں اورخطوط کے باہر کا ترجمہ بے معنیٰ ہو جاتا ہے۔