تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 479
یہ بیان کرنا شروع کر دیا کہ جنت جو نماز کے بدلہ میں ملتی ہے کیا چیز ہے اور جنت کا جو نقشہ انہوں نے کھینچا وہ ایسا خطرناک تھا کہ میں سمجھتا ہوں چکلے میں بیٹھنے اور اس جنت میں بیٹھنے میں کوئی امتیاز نہیں ہو سکتا تھا۔انہوںنے بتایا کہ وہاں عورتوں کی اس اس طرح تصویریں لگی ہوئی ہوں گی اور جس تصویر کو انسان پسند کرے گا وہ اسی وقت عورت بن جائے گی اور وہ اس سے خلوت شروع کر دے گا۔پھر وہ یوں کرے گا اس میں اتنی طاقتیں ہوں گی وہ فلاں فعل چوبیس چوبیس گھنٹہ تک کرتا چلا جائے گا۔مجھے یاد ہے میرے ساتھ کچھ بیرسٹر بیٹھے ہوئے تھے وہ یہ تقریر سن کر کہنے لگے خدا کا بڑا فضل ہے کہ یہ لیکچر رات کو ہوا اگر دن کو ہوتا اور غیرمسلم بھی اس میں آئے ہوئے ہوتے تو ہم شرمندگی سے ان کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے۔غرض مسلمانوں نے بھی جنت کو جو روحانیت کا مقام تھا، جو دیدار الٰہی کا مقام تھا ایک نہایت ہی شرمناک چیز بنالیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی دین کا انکار ہی ہے بھلا یہ بھی کوئی اقرار ہے کہ اس دنیا میں تو جہاں خدا تعالیٰ سے غافل کرنے کے ہزاروں سامان موجود ہیں ہمیں کہا جاتا ہے کہ جو دم غافل سو دم کافر اور وہ جہان جہاں خدا نظر آجائے گا اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں عورتوں کی بغلوں میں ہم سارا دن گھسے رہیں گے نہ نماز ہو گی نہ عبادت ہو گی نہ عشقِ الٰہی کے جذبات ہوں گے نہ روحانیت کی ترقی کے کوئی سامان ہوں گے گویا اس دنیا میں ہمیں یوں کافر بنایا گیا اور جنت میں ہمیں اس طرح کافر بنایا جاتا ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِؕ۰۰۲ (اے مخاطب) کیا تو نے اس شخص کو پہچانا؟ جو دین کو جھٹلاتا ہے۔حلّ لُغات۔اَرَءَيْتَ۔اَرَءَيْتَ کے لفظی معنے تو یہ ہیں کہ کیا تو نے دیکھا مگر عربی زبان میں رَءَیْتَ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے ایک رؤیتِ بصری کے معنوں میں دوم رؤیتِ قلبی کے معنوں میں یعنی اس کے معنوں میں آنکھ سے دیکھنا بھی شامل ہے اور دل سے دیکھنا بھی شامل ہے۔مثلاً اس وقت میرے سامنے گھڑی پڑی