تفسیر کبیر (جلد ۱۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 651

تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 476

اور جب بعض حصے بائبل کے اس خیال کے خلاف روشنی ڈالتے نظر آئے تو انہوں نے ایسے حصوں کو بائبل سے نکال دیا جیسے قرآن کریم میں یہ بتایا گیا تھا کہ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرَّحْـمٰن: ۴۷) جو شخص خدا سے ڈرے گا اسے دو جنت ملیں گے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔تو مسلمانوں نے چونکہ سارا زور اُخروی جنت پر دے دیا تھا انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ دونوں جنتیں اگلے جہان میں ملیں گی۔اسی طرح جب یہودیوں نے اپنی کتاب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کےساتھ مختلف انعامات کا وعدہ کیا ہوا ہے تو چونکہ توجہ تمام تر دنیوی انعامات کی طرف تھی انہوں نے غلوّ کر کے یہ ساری باتیں دنیا کے متعلق سمجھ لیں اور جن حصوںکواس خیال کے مطابق کرنے میں دقّت محسوس ہوئی ان حصوں کو بائبل سے بالکل نکال دیا۔قرآن کریم میں بھی بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو اس جہان کے متعلق ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کو اگلے جہان پر چسپاں کر دیا ہے۔آخری پارہ میں بہت سی پیشگوئیاں ایسی ہیں جو اس زمانہ میں لفظاً لفظاً چسپاں ہوتی ہیں۔جب انسان ایک طرف قرآن کریم میں ان پیشگوئیوں کو دیکھتا ہے اور دوسری طرف ان واقعات کو دیکھتاہے جو دنیا میں رونما ہوئے تو اس کا دل عش عش کر اٹھتا ہے وہ بے اختیار سبحان اللہ کہنے لگ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اس کا یقین بہت بڑھ جاتا ہے مگر ہمارے مفسرین شروع سے لے کر آخر تک اس کو قیامت پر چسپاں کر دیتے ہیں۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب کسی کو معلوم ہو کہ یہ سورۃ قیامت کے متعلق ہے تو وہ کہتا ہے چلو چھٹی ہوئی مجھے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔مگر یہودی اس کے برخلاف بائبل کی سب باتیں جو اخروی زندگی کے متعلق تھیں ان کو اس جہان پر چسپاں کر دیتے تھے اگلے جہان کا ذکر ہمیشہ الہامی کتب میں استعارہ کی زبان میں کیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ وہاں دودھ کی نہریں ہوں گی، وہاں شراب کی نہریں ہوں گی اور دودھ سے مراد علم اور شراب سے مراد شرابِ محبت ہوتی ہے مگر وہ کہتے تھے کہ یہ سب کچھ اس دنیا میں ملے گا اس لئے اخروی زندگی کے متعلق جس قدر اشارے ان کی کتب میں پائے جاتے تھے وہ سب کے سب یا تو انہوں نے اس دنیا کے متعلق قرار دے دیئے تھے یا ان کو ناقابلِ تاویل دیکھ کر سرے سے اڑا ہی دیا تھا۔ان اشارات کے مٹا دینے کی وجہ سے اب بائبل میں حیات بعد الموت کا کہیں ذکر ہی نظر نہیں آتا۔غرض یہ ایک عجیب بات ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دونوں نسلوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اُخروی زندگی کے ذکر کو اپنی کتب میں سے بالکل مٹا دیا تھا۔عیسائیوں میں اُخروی زندگی کا کچھ خیال تو ضرور پایا جاتا ہے مگر عیسائیوں میں بھی اُخروی زندگی کا کوئی معیّن نشان نہیں۔ہم سے کوئی پوچھے تو ہم جنت اور دوزخ کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں جس طرح اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا کوئی شہر ہوتا ہے کیونکہ اسلام میں بڑی کثرت کے ساتھ