تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 44
میں نہیں بلکہ زمین اور آسمان کے درمیان ایک بہت بڑی کرسی پر بیٹھے ہوئے۔اسی طرح بخاری اور بعض دوسری کتب احادیث میں ذکر آتا ہے کہ بعض دفعہ جبریل ظاہر ہوئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح بالمشافہ باتیں کیں جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے ہم کلام ہوتا ہے۔غرض جبریل کسی نہ کسی صورت میں متشکل ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔اسی لئے مفردات والوں نے یہ نہیں کہا کہ فِی الصُّوْرَۃِ الْمُعَیَّنَۃِ اپنی معین صورت میں جبریل ظاہر ہوتا ہے بلکہ فِیْ صُوْرَۃٍ مُّعَیَّنَۃٍ کہا ہے یعنی کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ امتیاز انہوں نے اس لئے کیا ہے کہ درحقیقت جبریل کی کوئی ایک شکل نہیں۔حدیثوں سے پتہ لگتا ہے کہ وہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔جب حرا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوا تو ایک شَابٌّ کی شکل میں ظاہر ہوا۔جب فترۃ وحی کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا تو وہ اتنی مہیب شکل میں ظاہر ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ کر گھبراگئے تھے۔وہ شکل اس قدر وسیع طور پر پھیلی ہوئی تھی کہ سارے آسمان پر محیط تھی۔لیکن مدینہ منورہ میں جب جبریل ظاہر ہوا تو اس کی شکل آپ کے ایک خوبصورت صحابی دحیہ کلبی سے ملتی تھی۔( بخاری کتاب فضائل القرآن باب کیف نزل الوحی وَاَوَّلُ مَا نَزَلَ ) غرض مختلف اوقات میں مختلف شکلوں اور صورتوں میں جبریل کا ظاہر ہونا صاف بتاتا ہے کہ جبریل کی کوئی ایک شکل نہیں۔جبریل تو ایک فرشتہ ہے اور اس لحاظ سے وہ ویسا ہی ہے جیسے اور فرشتے ہیں مگر جب وہ کسی بندے پر ظاہر ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے کلام کے مطابق ایک مثالی شکل اختیار کرلیتا ہے۔جبریل کے صورت معینہ میں آنے کی وجہ جب جبریل ایک خوبصورت شَابٌّ کی شکل میں آپ پر ظاہر ہوا اس وقت اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استمالت قلب کو مدّ ِنظر رکھ کر ایسا کیا کیونکہ اس وقت وحی کے نزول کا ابتدا تھا اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا یقین دلائے کہ ڈر اور فکر کی بات نہیں۔اس نے اپنے قرب کے لئے آپ کو مخصوص کرلیا ہے اور وہ آئندہ اپنے بہت بڑے فضلوں کا آپ کو مورد بنانے والا ہے۔پس چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی اور آپ سے اپنی محبت کا اظہار اللہ تعالیٰ کے مدّ ِنظر تھا اس لئے اس نے جبریل کو ایک نوجوان کی شکل میں آپ پر ظاہر فرمایا۔اس کے بعد جب جبریل ایک نہایت ہی مہیب اور خوفناک شکل میں آپ کودکھائے گئے تو اس میں حکمت یہ تھی کہ ابتدائے وحی پر چھ ماہ کا عرصہ گذرچکا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کا کلام اہل مکہ تک پہنچانا شروع کردیا تھا گو زیادہ زور کے ساتھ تبلیغ بعدمیں شروع کی گئی ہے مگر انفرادی رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نزول وحی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا پیغام